بی جے پی رکن اسمبلی ہاؤکپ کا سنسنی خیز انکشاف منی پور تشدد کو روکا جا سکتا تھا لیکن بالقصدایسا کرنے سے گریز کیا گیا
منی پور کے بی جے پی رکن اسمبلی پاؤلینلال ہاؤکپ نے ایک انتہائی حیران کرنے والا بیان دیا ہے
امپھال ، 24جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ’نیوزلاؤنڈری ‘کے مطابق ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں منی پور معاملہ پر پارلیمنٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کا مطالبہ لگاتار کر رہے ہیں، اور دوسری طرف آج پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ جب میں پارلیمنٹ میں جواب دینے کے لیے تیار ہوں تو اپوزیشن منی پور معاملے پر بحث کیوں نہیں ہونے دے رہی۔ اس درمیان منی پور کے بی جے پی رکن اسمبلی پاؤلینلال ہاؤکپ نے ایک انتہائی حیران کرنے والا بیان دیا ہے۔ کوکی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رکن اسمبلی ہاؤکپ کا کہنا ہے کہ منی پور تشدد میں ریاستی حکومت شامل ہے، حکومت کی ملی بھگت کی وجہ سے ہی تشدد نہیں رک رہا۔ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ریاست میں جاری نسلی تشدد کو روکا جا سکتا تھا، لیکن ایسا قصداً نہیں کیا گیا۔منی پور میں نسلی تشدد کو لے کر بی جے پی رکن اسمبلی نے ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
چراچندپور کی سیکوٹ سیٹ سے رکن اسمبلی ہاؤکپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے طویل مدت تک خاموش رہنے پر کہا کہ 79 دنوں کو بھول جائیے، اتنے بڑے تشدد کے لیے ایک ہفتہ (بولنے کے لیے) بھی بہت زیادہ وقت ہے۔ ہاؤکپ کہتے ہیں کہ خاموش رہنے کا مطلب نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔یہ باتیں ہاؤکپ نے ’نیوز لانڈری‘ کے نامہ نگار شیونارائن راجپوروہت کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہیں۔ ہاؤکپ نے بتایا کہ انھوں نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی اور وزیر اعظم سے ملنے کا وقت مانگا تھا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں آج بھی جواب کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ انھیں حالات کی سنگینی سے واقف کرا سکوں ۔



