
منی پور تشدد: آدی باسیوں کا تحفظ فوج سے کرانے کی عرضی، سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار
نی پور میں تشدد کا معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ آدی باسیوں کو فوج کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے
نئی دہلی ، 20جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) منی پور میں تشدد کا معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ آدی باسیوں کو فوج کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تاہم سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ یہ نظم و نسق کا معاملہ ہے۔ جبکہ مرکزی حکومت کا کہنا تھا کہ سیکورٹی ایجنسیاں موقع پر موجود ہیں اور حالات پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ معاملہ پر اگلی سماعت 3 جولائی کو ہوگی۔عرضی گزار کی طرف سے پیش ہونے والے کولن گونزالویس نے عدالت کو بتایا کہ 70 آدی باسی مارے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے عدالت کو سیکورٹی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کے باوجود حکومت تشدد کو روکنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
عرضی میں کہا گیا تھا کہ عدالت قبائلیوں کے تحفظ کے لیے فوج کی تعیناتی کا حکم جاری کرے۔ وہیں، مرکز کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل نے کہا کہ یہ نظم و نسق کا معاملہ ہے۔ اس سے قبل بھی عدالت نے یہ کہتے ہوئے اسی طرح کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا، کہ فی الحال ایجنسیوں کو کام کرنے دیا جائے۔



