قومی خبریں

منیش سیسودیا کو راحت کا انتظار، عدالت عظمیٰ نے ضمانت عرضی پر فیصلہ رکھا محفوظ

منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا کو آج بھی راحت نہیں مل سکی۔

نئی دہلی، 17اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) دہلی کے مبینہ شراب پالیسی گھوٹالہ یعنی آبکاری گھوٹالہ اور منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا کو آج بھی راحت نہیں مل سکی۔ وہ سپریم کورٹ سے راحت کا انتظار کر رہے ہیں لیکن عدالت نے منگل کے روز ان کی ضمانت عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ نے منیش سیسودیا کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی اور سی بی آئی و ای ڈی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کی دلیلیں سنیں۔

سبھی فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔اس سے قبل پیر کے روز عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی اور ای ڈی سے کہا تھا کہ وہ دہلی آبکاری پالیسی معاملوں میں منیش سیسودیا کو ہمیشہ کے لیے جیل میں نہیں رکھ سکتے اور اے ایس جی سے سوال کیا تھا کہ ذیلی عدالت میں سیسودیا کے خلاف الزام پر بحث کب شروع ہوگا؟ بنچ نے راجو سے کہا کہ کسی معاملے میں ایک بار فرد جرم داخل ہو جانے کے بعد بحث فوراً شروع ہونی چاہیے۔ اے ایس جی نے دعویٰ کیا کہ منی لانڈرنگ معاملے میں اور موبائل فون کو تباہ کر ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا جرم دکھانے کے لیے ای ڈی کے پاس موافق ثبوت ہیں۔ اس لیے ضمانت نہ دی جائے۔؟واضح رہے کہ دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا کو فروری میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ حراست میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ مئی اور جولائی میں الگ الگ ضمانت عرضیوں میں ضمانت دینے سے انکار کے بعد عآپ لیڈر نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button