بین الاقوامی خبریں

مستقبل میں دنیا کے کئی معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں: امریکی خفیہ ایجنسی

نیویارک:(ایجنسیاں)عالمی وبا اور طویل عرصے سے جاری نظاموں اور اداروں کو درپیش چیلنجوں سے لڑتی اس دنیا میں آئندہ بیس برسوں میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آنے والی۔ یہ تجزیہ، امریکی انٹیلی جنس کے تجزیہ کاروں کی جانب سے ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جسے گلوبل ٹرینڈز 2040 کا نام دیا گیا ہے۔اس رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ادارے اور نظام بین الاقوامی واقعات پر حاوی رہے۔ اور انہیں کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے چیلینجوں کا سامنا کرتے ہوئے دباؤ بڑھتا رہے گا۔

ان میں ماحولیاتی تبدیلی، امراض، مالی بحران، اور جدید سے جدید تر ٹیکنالوجی جیسے چیلنج شامل ہیں۔رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ان چیلنجوں سے کمیونیٹیز، ریاستوں اور عالمی نظاموں کی لچک اور مطابقت کا بار بار امتحان ہوتا رہے گا، اور یہ اکثر نظاموں اور ماڈلوں کی استعداد سے بالاتر ہوجائیں گے جب کہ ان سے پیدا شدہ چند واقعات تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر چار سال بعد، نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی مرتب کردہ گلوبل ٹرینڈز 2040 نامی رپورٹ میں حالات کا مایوس کن تجزیہ اس کا ایک حصہ ہوتا ہے۔

اس نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ جیسی جمہوریتیں، اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب رہیں گی اور پھلنے پھولنے کے قابل ہو سکیں گی، تاہم اس بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تسلسل کے ساتھ شدت اختیار کرتے مسائل سے یہ جمہوریتیں احسن طور پر نہ نمٹ سکیں تو پھر شاید ایسا نہ ہو سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا نے دنیا کو نہ صرف اس کی کمزوری کی یاددہانی کرائی ہے بلکہ ایک دوسرے پر انتہائی درجے کے انحصار میں موجود خطرات کا بھی اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی نظام ایسے پیچیدہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں کمزور ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کو اس رپورٹ میں اہم ترین چیلنجوں میں سے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے جو کہ توقع ہے کہ آئندہ دو عشروں میں بتدریج شدت اختیار کرتا جائے گا اور تمام ممالک میں بلند درجہ حرارت،سمندروں کی سطح میں اضافے اور طوفانوں، بگولوں اور سیلابوں کی شکل میں شدید موسموں کا باعث بنے گا۔

ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان غریب اور ترقی پزیر ممالک کو ہے، اور ان ممالک کی حکومتوں کی ان تغیرات سے مقابلہ کرنے اور مطابقت کی صلاحیت کے فقدان سے نقل مکانی کا نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button