
دھنی پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہند،اسلامی کلچرل فاؤنڈیشن نے ایودھیاکے دھنی پورمیں اپنے مجوزہ منصوبے کے نقشے کی ایک ڈرائنگ پیرکوایودھیاڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پیش کی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت دھنی پور میں 5 ایکڑ اراضی دی گئی ۔مسلمانوں کے ایک طبقہ نے سیکولرزم دکھاتے ہوئے ایک مسجد اور دیگر طبی اوررفاہی سہولیات تیار کیے جانے کااعلان کیاہے۔
مسلمانوں کی رائے عامہ اس زمین کولینے کے خلاف ہے۔بابری مسجدکے بعدلگاکہ اب مذہبی عبادت گاہوں کاتنازعہ حل ہوگیا،لیکن کئی جگہوں پردوسری مساجدنشانہ بنائی جارہی ہیں۔ٹرسٹی کیپٹن افضل احمد خان نے ایودھیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین اور دیگر عہدیداروں سے ایک میٹنگ کی اور ایودھیا مسجد ٹرسٹ کے مجوزہ منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جس میں 300 بستروں پر مشتمل ایک سپر اسپیشیلٹی اسپتال ، ایک کمیونٹی باورچی خانے بھی شامل ہے جو اس کے آس پاس کھانا کھلائے گا۔
ایک ریسرچ سنٹر اور ایک مسجد بھی شامل ہے جو عظیم آزادی پسند جنگجو شہید مولوی احمد اللہ شاہ کے نام سے منسوب ہے جس میں ایک وقت میں دوہزارنمازی آسکتے ہیں۔بابری مسجدکے بدلے بنائی جارہی مسجدکانام بابری رکھنے کے لیے ٹرسٹ تیارنہیں ہے۔اس پرسخت گیرعناصرکی طرف سے اعتراض ہوچکاہے۔
ٹرسٹی کیپٹن افضل احمد خان نے بتایا کہ گیارہ سیٹوں کے نقشے ایودھیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین وشال سنگھ کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔ نقشہ کی منظوری کے لیے ٹرسٹ نے پروسیسنگ فیس کے طور پر 89 ہزار روپے بھی جمع کروائے ہیں۔
ٹرسٹی کیپٹن افضل نے بتایاہے کہ پروجیکٹ کا نقشہ سائز میں بڑا ہے اور عام نقشوں سے بہت مختلف ہے ، لہٰذا اسے آن لائن درخواست نہیں دی جاسکتی ہے ۔ لہٰذا ایودھیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے یہ نقشہ آف لائن منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔



