بین ریاستی خبریں

مراٹھا ریزرویشن کو پھر مشکلات کا سامنا او بی سی ویلفیئر فاؤنڈیشن نے بامبے ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی

مراٹھا ریزرویشن ملنے پر بھی منوج جرانگے پاٹل ناراض

ممبئی،21فروری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مہاراشٹر میں مراٹھا طبقہ کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز کو منظوری مل چکی ہے۔ اس بل کے مطابق ریاست میں مراٹھا طبقہ کو تعلیم اور روزگار میں 10 فیصد ریزرویشن ملے گا۔ اس کے بعد پوری ریاست میں مراٹھا طبقہ خوشیاں منا رہا ہے۔ اس درمیان بامبے ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کر سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مراٹھا طبقہ کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کی سفارش کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دراصل او بی سی ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ عرضی داخل کی گئی ہے۔ ریاستی پسماندہ طبقہ کمیشن کے چیف سنیل شکرے کی تقرری کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج پیش کیا گیا ہے۔

عرضی دہندگان نے شکرے اور دیگر اراکین کی تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے تقرری حکم کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے داخل مفاد عامہ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تقرری قانون کے مناسب طریقہ کار پر عمل کیے بغیر ہوئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ ریاستی پسماندہ طبقہ کمیشن نے مراٹھا طبقہ کے معاشی و سماجی پچھڑے پن پر ایک رپورٹ میں سرکاری ملازمتوں و تعلیمی اداروں میں مراٹھا طبقہ کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کی سفارش کی۔

مراٹھا ریزرویشن کو منظوری دینے کے لیے 20 فروری کو خصوصی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ یہ مسودہ مقننہ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا تھا کہ مراٹھا ریزرویشن سے متعلق لیا گیا فیصلہ تاریخی اور بہادری بھرا ہے۔ ساتھ ہی یہ ریزرویشن عدالت میں بھی درست ثابت ہوگا۔ اس لیے سبھی اراکین نے اس بل کو اتفاق رائے سے منظوری دینے کی اپیل کی۔ یہی وجہ ہے کہ بل پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ برسراقتدار اور حزب مخالف طبقہ اس معاملے میں ساتھ دکھائی دیے اور ریزرویشن بل اسمبلی اور پھر قانون ساز کونسل میں پاس ہو گیا۔

اس طرح مراٹھا طبقہ کو سرکاری اسکولوں، کالجوں، ضلع کونسلوں، وزارتوں، علاقائی دفاتر، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں ریزرویشن ملے گا، حالانکہ مراٹھا طبقہ کو سیاسی ریزرویشن نہیں ملے گا۔ اس درمیان مراٹھا لیڈر منوج جرانگے پاٹل کو علیحدہ سے ریزرویشن منظور نہیں ہے۔ وہ نوٹیفکیشن کو قانون میں بدلنے کی اپنی ضد پر قائم ہیں۔


مراٹھا ریزرویشن ملنے پر بھی منوج جرانگے پاٹل ناراض

ممبئی،21فروری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مراٹھا ریزرویشن بل مہاراشٹر اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے اور اب اسے قانون ساز کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ اس بل کے ذریعے ریاست میں مراٹھا برادری کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں 10 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔ لیکن حکومت کے ذریعے اس بل کی منظوی کے بعد بھی مراٹھا ریزرویشن کے لیے تحریک چلانے والے منوج جرانگے پاٹل اس فیصلے سے ناراض ہیں اور اپنی اسی ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے اپنے آبائی وطن انتراولی سراٹی میں اپنی تحریک کو مزید شدت کے ساتھ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اس تعلق سے میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق منوج جرانگے پاٹل نے اسے حکومت کے ذریعے مراٹھوں کو بیوقوف بنانے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس کے ذریعے ہمیں دھوکہ دیا ہے کیونکہ ہمارا یہ مطالبہ ہرگز نہیں تھا کہ مراٹھوں کو علاحدہ سے ریزرویشن دیا جائے، بلکہ ہم چاہتے تھے کہ مراٹھوں کو کنبی ذات کی بنیاد پر او بی سی میں شامل کیا جائے۔

حکومت نے علاحدہ طور پر ہمیں جو 10 فیصد ریزرویشن دیا ہے وہ عدالت میں قائم ہی نہیں رہ سکے گا، اس لیے حکومت کے ذریعے منظور کردہ یہ بل مراٹھوں کو بیوقوف بنانے کے لیے ہے۔خبر کے مطابق منوج جرانگے پاٹل نے کہا ہے کہ مراٹھوں کے لیے جو ریزرویشن تجویز کیا گیا ہے وہ ہماری برادری کی مانگ کے مطابق نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ مراٹھا برادری کو او بی سی کوٹہ کے تحت ریزرویشن دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور اب ہم اپنی تحریک کو مزید تیز کریں گے۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مہاراشٹر حکومت 10 یا 20 فیصد ریزرویشن دیتی ہے، ہم او بی سی زمرے کے تحت ریزرویشن چاہتے ہیں۔منوج جرانگے نے اپنی ریزرویشن تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے مراٹھا برادری کے سرکردہ لوگوں کی میٹنگ بھی بلائی ہے۔

منوج جرانگے پاٹل کا کہنا ہے کہ ہمیں وہ ریزرویشن چاہیے جس کے ہم حقدار ہیں۔ ہم لوگوں میں سے جن لوگوں کے پاس کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ ہے انہیں دیگر پسماندہ طبقات یعنی او بی سی کے تحت ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ جن کے پاس کنبی سرٹیفکیٹ نہیں ہے ان کے لیے ’سیج سویارے‘ (خونی رشتے کی بنیاد پر) سرٹیفکیٹ دینے کا قانون منظور کیا جانا چاہئے۔منوج جرانگے نے کہا کہ کنبی ذات مہاراشٹر میں او بی سی زمرے میں آتی ہے۔ اس کی بنیاد پر مراٹھا برادری کے تمام لوگوں کو کنبی سمجھا جانا چاہئے اور اسی کے مطابق (او بی سی کے تحت) ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔

شندے حکومت کے ذریعہ دیے گئے ریزرویشن سے صرف 100-150 مراٹھا لوگوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ہمارے لوگ ریزرویشن سے محروم رہیں گے۔ میں ’سیج سویارے‘ قانون کو منظور کرنے اور اسے نافذ کرنے کے اپنے مطالبے پر قائم ہوں۔مراٹھا ریزرویشن تحریک کی قیادت کرنے والے منوج جرانگے پاٹل کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ جن کے کنبی ریکارڈ ملیں گے ان کے رشتہ داروں کو بھی کنبی یعنی او بی سی ریزرویشن دیا جائے گا۔ لیکن اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت کو رشتہ داروں کو کنبی ریزرویشن دینے کے خلاف 6 لاکھ اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔ ان اعتراضات کی تحقیقات کی جاری ہیں۔

منوج جرانگے نے کہا کہ اگر ہمارا کنبی ریکارڈ موصول ہوا ہے تو ہمارے رشتہ داروں کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرکے او بی سی کوٹہ کے تحت ریزرویشن دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ ہم وہی لے کر رہیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔منوج جرانگے پاٹل نے کہا کہ ہمارے پاس 10 فیصد ریزرویشن کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن یہ 10 فیصد مراٹھا ریزرویشن صرف مہاراشٹر کے لیے ہے۔ مراٹھوں کو ریاست سے باہر ریزرویشن نہیں مل سکے گا۔ لیکن اگر اسی کے ساتھ انہیں کنبی ذات کے تحت او بی سی میں شامل کیا جاتا تو ریاست کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی ان کا فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ او بی سی میں ریزرویشن ریاست سے مرکز تک ہے اور کنبی ذات ریاستی اور قومی سطح پر او بی سی میں ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ مراٹھا برادری کو کنبی ذات کے تحت ریزرویشن دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button