سعید بن المسیّب کی بیٹی کا نکاح
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
حضرت سعید بن المُسَیِّب (م94 ھ) جلیل القدر تابعی تھے۔ ان کی عظمت کی بنا پر انھیں ‘سید التابعین’ کہا گیا ہے۔ علمِ حدیث میں ان کا بڑا مرتبہ تھا۔ ان کے درس میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں طلبہ شریک ہوتے تھے۔
حضرت ابن المسیّب کی بیٹی ‘دُرّۃ’ ان کے علم کی امین تھی۔ اس نے ان سے سن کر تمام احادیث یاد کرلی تھیں۔ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان (م86ھ) نے اس کے لیے اپنے بیٹے اور جانشین ولید کا رشتہ بھیجا، لیکن ابن المسیّب نے اسے منظور نہیں کیا۔
حضرت ابن المسیّب کا ایک ہونہار شاگرد ابن ابی وداعۃ تھا۔ وہ ان کے درس میں پابندی سے شریک ہوتا تھا۔ ابن المسیّب اس پر بہت اعتماد کرتے تھے اور اسے اپنے سے بہت قریب رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ابن ابی وداعہ حلقۂ درس سے غیر حاضر رہا اور مسلسل تین دن تک نہیں آیا۔ ابن المسیّب کو تشویش ہوئی۔
چوتھے دن وہ آیا تو غیر حاضری کا سبب دریافت کیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیوی کا انتقال ہوگیا تھا، اس لیے وہ تین دن درس میں حاضر نہ ہوسکا تھا۔ حضرت ابن المسیّب نے اس دن جب اپنا درس ختم کیا تو ابن ابی وداعۃ کو روک لیا۔ اس سے دریافت کیا کہ "اگر تم چاہو تو میں تمھارا نکاح اپنی بیٹی سے کردوں۔”
اس نے آمادگی ظاہر کی تو انھوں نے اسی مجلس میں نکاح کی کارروائی مکمل کردی اور مجلس برخواست ہوگئی۔
رات ہوئی تو ابن ابی وداعہ کے گھر کی کُنڈی بجی۔ اندر سے پوچھا گیا: "کون؟”
جواب دیا گیا: "سعید”
اندر سے پھر دریافت کیا گیا: "کون سعید؟”
جواب آیا: "سعید بن المسیّب”
بے اختیار دروازہ کھلا۔ ابن ابی وداعہ نے نکل کر کہا: "حضرت! آپ نے کیوں زحمت فرمائی؟ مجھے طلب کرلیا ہوتا۔” سعید بن المسیّب کے پیچھے ان کی بیٹی سکڑی سمٹی کھڑی تھی۔
انھوں نے کہا: "یہ میں اپنی بیٹی کو لے آیا ہوں۔ میں نے سوچا: جب تم لوگوں کا نکاح ہوگیا ہے تو تمھیں الگ رکھنا مناسب نہیں ہے۔” ابن ابی وداعہ کی ماں بھاگی ہوئی آئیں اور اپنے بیٹے سے کہا: "میں پہلے اپنی بہو کو سجاؤں گی، سنواروں گی، پھر تمھارے حوالے کروں گی۔”
تین دن کے بعد جب ابن ابی وداعہ حضرت سعید بن المُسَیِّب کی مجلسِ درس میں شرکت کے لئے تیار ہونے لگے تو بیوی نے دریافت کیا: "کہاں جانا چاہ رہے ہیں؟”
شوہر نے کہا: "تمھارے ابا کی مجلس میں۔”
بیوی نے کہا: "اجلس، اعلّمک علم سعید”
(یہیں بیٹھیے، میرے باپ سعید کے پاس جو علم ہے وہ میں ہی آپ کو دے دوں گی۔)
📚 حوالہ جات:
[ ابن الحاج، المدخل: 215/1 ]
[ ابن سعد، الطبقات الکبری: 138/5 ]
[ ابو نعیم، حلیۃ الأولياء: 167/2 ]
اس واقعہ سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں:
(1) لڑکیوں کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہیے۔ علوم و فنون کے میدان میں لڑکیاں لڑکوں کی ہم سری کر سکتی ہیں، بلکہ بسا اوقات ان سے آگے بڑھ سکتی ہیں۔
(2) رشتے کے معاملے میں جاہ و منصب اور مال و دولت کو پیش نظر رکھنے کے بجائے دین داری کو ترجیح دینی چاہیے۔
(3) نکاح کی تقریب کو زیادہ سے زیادہ آسان اور سادہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(4) مثالی نکاح وہ ہے جس میں لڑکی والوں کا کم سے کم خرچ ہو، یا کچھ بھی خرچ نہ ہو۔
(5) لڑکے کو ولیمہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لڑکی والوں پر کوئی ذمے داری نہیں ہے کہ وہ دولہا، باراتیوں اور دوسرے متعلقین کے لیے دعوتِ طعام کا اہتمام کریں۔
(6) نکاح کو سادہ اور آسان بنانے کی تعلیمات صرف غریب لوگوں کے لیے نہیں ہیں، بلکہ امیر اور غریب سب ان کے مخاطب ہیں۔
(7) اگر کوئی مال دار اپنی بیٹی کا نکاح سادہ انداز میں کرے تو اسے بخیل اور لالچی ہونے کا طعنہ دینا مناسب نہیں ہے۔
(8) سادہ نکاح کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مال دار آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کرتے وقت اس کو خالی ہاتھ رخصت کردے، بلکہ حسبِ توفیق اسے زیورات دینے اور اس کے لیے ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کی تشہیر نہیں کرنی چاہیے۔
(9) دولہا اور اس کے گھر والوں کو نکاح کے موقع پر جہیز کا مطالبہ کرنا، یا اس کی امید رکھنا اور اگر کچھ نہ ملے تو کھلے انداز میں، یا دبے طور پر اس کی شکایت کرنا بڑے عار کی بات ہے۔ اور اس بنیاد پر بعد میں دلہن کو طعنے دینا اور ذہنی یا جسمانی طور پر ستانا انتہائی باعثِ شرم ہے۔ یہ سماجی زندگی کا ناسور ہے۔ مسلم سماج کو اس سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(10) نکاح کے ذریعے دو خاندان قریبی رشتے کے بندھن میں بندھتے ہیں۔ اس لیے نکاح کے موقع پر دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے لیے سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔



