دوسری شادی کرلی، پہلی کو گزارابھتہ دینے میں دقت:سپریم کورٹ نے مسلم شوہر کو سنایا شاہ بانو کا فیصلہ
نئی دہلی،16فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پرتعیش زندگی گزارنے والے ایک مسلمان شخص کو سپریم کورٹ نے سخت پھٹکار لگائی ہے۔ دراصل اس نے پہلی بیوی کو ہر ماہ ملنے والے بھتہ کو کم کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن اسے ایک جھٹکا لگا۔ اس نے اپنی پہلی بیوی کو 12 سال قبل طلاق دی تھی۔
اب وہ چاہتا تھا کہ ماہانہ کفالت کو 15000 روپے سے کم کر کے 10000 روپے کر دیا جائے۔دلیل یہ دی کہ اسے اپنی دوسری بیوی اور بچوں کا خیال رکھنا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس کیس میں سپریم کورٹ میں تاریخی شاہ بانو فیصلے کا ذکر بھی آیا۔شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ اگرچہ شرعی قانون کے تحت ایک مسلمان مرد صرف عدت کے دوران اپنی بیوی کی کفالت ادا کرنے کا پابند ہے۔
لیکن سیکولر کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت اسے طلاق یافتہ بیوی کو کفالت ادا کرنا چاہیے،تب تک دینا پڑے گا جب تک وہ دوبارہ شادی نہ کر لے۔ اسلام میں عدت کی مدت 3 ماہ 10 دن ہے۔ یہ طلاق اور حلالہ کے درمیان ایک رواج ہے۔چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس اے ایس بوپنا نے بھی اس مسلمان شخص کی سرزنش کی جب اس نے کہا کہ اس کی آمدنی صرف 25000 روپے ہے اور اسے ہر ماہ پہلی بیوی کو 15000 روپے دینا مشکل ہو رہا ہے۔
ان کے وکیل نے کہا کہ پہلی بیوی کی کوئی اولاد نہیں ہے اور وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہے۔ اس نے دلیل دی کہ اسے اپنے شوہر سے کسی مالی مدد کی ضرورت نہیں ہے، جس نے دوسری شادی کی ہے۔ شوہر کو اپنی دوسری بیوی اور بچوں کا خیال رکھنا ہے۔ براہ کرم ماہانہ گزارا الاؤنس کو 15000 روپے سے کم کر کے 10000 روپے کر دیں۔



