متھرا کورٹ نے شاہی عید گاہ کے سروے کا دیا حکم، 20جنوری کو رپورٹ دی جائے
سینئر ڈویڑن کی عدالت نے ہندو سینا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متنازعہ جگہ کا سروے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
متھرا، 24دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) متھرا کی عدالت نے شاہی عیدگاہ کے سروے کا حکم دیا ہے۔ سول کورٹ کے سینئر ڈویژن نے متھرا میں شاہی عیدگاہ تنازعہ- شری کرشنا جنم بھومی میں سروے کے لیے تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔آج سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ سروے ٹیم کو سروے کی رپورٹ 20 جنوری2022 تک عدالت میں جمع کرانی ہوگی۔سینئر ڈویڑن کی عدالت نے ہندو سینا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متنازعہ جگہ کا سروے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس معاملے میں ہندو فریق نے 13.37 ایکڑ اراضی کا دعویٰ کیا ہے۔عدالت نے کہا کہ سروے کی تمام کارروائی عدالت کے حکم کے تحت ہوگی۔
عدالت نے امین کو متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کی متنازعہ جگہ کا سروے کرنے کا حکم دیا۔خیال رہے کہ سروے آئندہ برس 2 جنوری2023 سے شروع ہوگا۔ سروے رپورٹ 20 جنوری2023 کو عدالت میں پیش کی جانی ہے۔ ہندوؤں کی جانب سے سچائی جاننے کے لیے سروے کرانے کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا تھا۔یہ حکم اسی خطوط پر ہے جب وارانسی کی ایک عدالت نے گیان واپی مسجد کے ویڈیو گرافک سروے کا حکم دیا تھا۔ 8 دسمبر2022 کو ہندو سینا کے قومی صدر وشنو گپتا اور دہلی کے نائب صدر سرجیت سنگھ یادو نے عدالت میں اپنا مزعومہ دعویٰ کیا کہ 13.37 ایکڑ پر بنے مندر کو گرا کر اس وقت کے مغل بادشاہ اورنگ زیب نے عیدگاہ بنائی تھی۔ درخواست میں شاہی مسجد عیدگاہ کے درمیان سال 1968 میں کیے گئے معاہدے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔



