سرورققومی خبریں

متھرا: سرکاری اسکول کے پرنسپل معطل، طلبہ سے نماز پڑھوانے کے الزام پر جانچ شروع

نماز کے الزام پر پرنسپل معطل، تحقیقات شروع

متھرا 02 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) متھرا کے ایک سرکاری پرائمری اسکول کے پرنسپل کو اس وقت معطل کر دیا گیا جب ایک مقامی بی جے پی رہنما نے ان پر طلبہ کو اسلام قبول کرنے کی ترغیب دینے اور اسکول میں قومی ترانے کی ادائیگی روکنے کا الزام عائد کیا۔ حکام نے پیر کے روز اس کارروائی کی تصدیق کی۔

ضلع کے بیسک شکشا ادھیکاری رتن کیرتی نے 31 جنوری کو نوہجیل ترقیاتی بلاک کے ایک پرائمری اسکول کے پرنسپل جان محمد کے خلاف معطلی کا حکم جاری کیا۔ حکم کے مطابق انہیں عارضی طور پر منٹ ترقیاتی بلاک کے ایک دوسرے پرائمری اسکول سے منسلک کر دیا گیا ہے۔

معاملے کی تفصیلی جانچ کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمۂ تعلیم کے ایک عہدیدار کے مطابق شکایت موصول ہوتے ہی ابتدائی سطح پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ضابطے کے تحت کارروائی کی گئی تاکہ حقائق واضح کیے جا سکیں۔

یہ کارروائی 30 جنوری کو بی جے پی کے منڈل صدر درگیش پردھان کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ پرنسپل طلبہ کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں نماز پڑھنے کے لیے اکساتے تھے۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اسکول کی سرگرمیوں کے دوران قومی نغمہ پڑھنے پر طلبہ کو ڈانٹا جاتا تھا اور ہندو دیوی دیوتاؤں کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کیے گئے۔

اپنی شکایت میں پردھان نے مزید الزام عائد کیا کہ پرنسپل طلبہ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے والدین کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے آمادہ کریں۔ یہ بھی کہا گیا کہ بعض طلبہ کو مبینہ طور پر مسجد جانے کے لیے کہا گیا اور ایک مذہبی گروہ کے افراد اسکول آ کر انہیں اس سلسلے میں ترغیب دیتے رہے۔

دوسری جانب جان محمد نے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کارروائی کی تیزی پر حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو اسلام قبول کرنے کی ترغیب دینے کا الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صبح کی اسمبلی میں روزانہ معمول کے مطابق دعا، حلف اور قومی نغمہ شامل ہوتا ہے اور نہ کبھی کسی طالب علم یا والدین نے شکایت کی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 2007 سے نوہجیل کے پرائمری اسکول میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس عرصے میں کبھی ایسے الزامات کا سامنا نہیں کیا۔ ان کے مطابق اسکول کے تمام آٹھ اساتذہ ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں ہمیشہ تعاون حاصل رہا۔ جان محمد نے کہا کہ تدریس سے قبل وہ بارڈر سکیورٹی فورس میں حوالدار رہ چکے ہیں اور بعد ازاں تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔

53 سالہ پرنسپل کے مطابق انہیں اتوار یکم فروری کی شام معطلی کا حکم ملا، بغیر اس کے کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا۔ وہ متھرا کے قریبی گاؤں رام نگلا کے رہنے والے ہیں اور متھرا کے بی ایس اے کالج سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔

حکام کے مطابق بلاک ایجوکیشن افسر نے 30 جنوری کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی جس کی بنیاد پر ابتدائی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ متعلقہ اسکول ایک مشترکہ تعلیمی سرکاری پرائمری ادارہ ہے جہاں اس وقت 235 طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ تدریسی عملہ آٹھ اساتذہ پر مشتمل ہے۔

انتظامیہ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جانچ مکمل ہونے تک کسی بھی دعوے کی تصدیق قبل از وقت ہوگی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ معاملے کو غیر جانبدار طریقے سے دیکھا جائے گا تاکہ اسکول کے تعلیمی ماحول پر کوئی منفی اثر نہ پڑے اور والدین کے خدشات کو شفاف طریقے سے دور کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button