مولانا آزاد کے پوتے نے بھی آبادی کنٹرول قانون کا مطالبہ کیا ، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی
نئی دہلی، 29 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)#مولانا #آزاد نیشنل اردو #یونیورسٹی ، حیدرآباد کے چانسلر فیروز بخت احمد نے آبادی کنٹرول سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔۔ اردو زبان کے اسکالر فیروز بخت ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے بڑے بھائی کے پڑ پوتے ہیں۔ درخواست میں مطالبہ کیاگیاہے عدالت مرکزی #حکومت کو آبادی پرکنٹرل کرنے نے کے لئے موثر قانون بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے دو بچوں کی پالیسی اپنانے پر غور کر ے۔ اس کے تحت دو سے زیادہ #بچے رکھنے والوں کو سرکاری ملازمت، امداد اور سبسڈی نہیں دی جانی چاہئے۔
ان کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے پر غور ہو۔#درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک کے بہت سارے مسائل کی اصل وجہ آبادی ہے۔ زیادہ تر ٹیکس دہندگان خود ہی 2 بچوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن جن کو سبسڈی لینا ہے، وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔ #ہندوستانی #آبادی سرکاری ریکارڈ میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ ڈیڑھ سو کروڑ سے زیادہ کا ہوچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان ترقی کے تمام پیمانے پر دنیا میں پسماندہ دکھائی دیتا ہے۔
بھوکے لوگوں کی تعداد پر مبنی عالمی اعدادوشمار میں ہندوستان 102 نمبر پر ہے۔ عالمی خوشحالی اعدادوشمار میں ہندوستان 133 ویں نمبر پر ہے۔فیروز بخت کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 1976 میں بنائے گئے آئین کی 42 ویں ترمیم میں آبادی پر قابو پانے سے متعلق قوانین بنانے کا حق حکومت کو دیا گیا تھا۔ مرکزی یا ریاستی حکومت دونوں ہی اس پر قانون بناسکتے ہیں لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کرتا ہے۔



