بین ریاستی خبریں

مولانا رابع حسنی ندوی کی کمی عرصہ تک محسوس ہوتی رہے گی:محمدکوثر

مرشد الامت مولانارابع حسنی ندوی علیہ الرحمہ اسلاف کے پر تو اور عکس تھے۔

نئی دہلی14اپریل(پریس ریلیز)مرشد الامت مولانارابع حسنی ندوی علیہ الرحمہ اسلاف کے پر تو اور عکس تھے۔وہ امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا مرکز تھے۔نامساعدحالات میں آپ کی شخصیت امت مسلمہ کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتی تھی۔وہ کئی اداروں کے نہ صرف سربراہ تھے بلکہ سرپرست اور مربی کی حیثیت رکھتے تھے۔وہ ملت کے قیمتی سرمایہ تھے ۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وقار و اعتبار کو آپ نے آگے بڑھایا،بورڈ کے ساتھ ندوۃ العلماء کو سینچا اور سنوارا۔ان کے انتقال سے قیادت کا بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ان خیالات کا اظہار عطا ایجوکیشنل اینڈ و یلفیئر ٹرسٹ نئی دہلی کے سکریٹری محمد کوثر نے اپنے تعزیتی بیان میں کیا۔مولانا رابع حسنی ندوی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا،مولانا ابوالحسن علی ندوی کی علمی ودینی وراثت کے امین تھے۔

بزرگوں کی صف اول خالی ہوتی چلی جارہی ہے۔وہ اس صف کے نمائندہ تھے جس نے امت کی بھرپور قیادت کی۔یہ صرف ندوۃ العلماء کا نقصان نہیں ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کا نقصان ہے۔آپ عرصہ تک بورڈ کے صدر رہے اور بورڈ کے استحکام کی کوشش کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو قبول کرے،درجات بلندکرے ۔آمین۔

محمد کوثر نے مزیدکہا کہ مولانا رابع حسنی ندوی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے ۔ایک باب کا اختتام ہے۔ایسی شخصیت اب دورتک نظرنہیں آتی۔انہوں نے اکابرین کی امانت کو سینے سے لگائے رکھا اور اس کی حفاظت کرتے رہے ۔مولانا عرصہ سے بیمار تھے لیکن امت کی فکر میں رہتے اور بورڈ کے پلیٹ فارم سے امت مسلمہ کی رہنمائی کرتے۔ان کی کمی کا احساس اب زیادہ ہوگا۔ایسے دور میں جب سخت مسائل کا سامنا ہے اورقیادت کا بحران ہے،آپ کا وجود امت مسلمہ ہندیہ کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتاتھا،اس خلا کو پر نہیں کیا جاسکتا۔عرصہ تک ان کی کمی محسوس ہوتی رہے گی ۔اللہ تعالیٰ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو،دارالعلوم ندوۃ العلماء کو اور ان سے متعلق اداروں کو ان کا بہترین بدل عطا فرمائے۔اور ان کے اہل خانہ کو،ان کے متعلقین کو،ان سے متعلق اداروں کے ذمہ داروں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button