بین الاقوامی خبریں

’میڑرز آف مین‘ نوآبادیاتی جرائم کے موضوع پر بننے والی پہلی جرمن فلم

فلم میں نمیبیا کے لوگوں پر ہونے والے جرمن نوآبادیاتی مظالم کی نشان دہی کی گئی ہے۔

برلن،2اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)’میڑرز آف مین‘ Measures of Men (Der vermessene Mensch) جرمنی کے نوآبادیاتی جرائم کے موضوع پر بننے والی پہلی جرمن فیچر فلم ہے۔ اس میں نمیبیا کے مقامی قبائل کی جانب سے جرمن نوآبادیاتی حکومت کے خلاف بغاوت اور اس کے کچلے جانے سے متعلق پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔آج سے تقریباً 120 سال قبل جنوب مغربی افریقہ، جسے اب نمیبیا کہا جاتا ہے، جرمن نوآبادی تھا۔اس فلم میں نمیبیا کے لوگوں پر ہونے والے جرمن نوآبادیاتی مظالم کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار لارس کراؤمے پہلے بھی جرمن تاریخ کے دیگر متنازعہ موضوعات کو اپنی فلموں کا عنوان بنا چکے ہیں۔اس فلم کے ہدایت کار لارس کراؤمے نے بات چیت کے دوران بتایا کہ جب جنوب مغربی افریقہ یعنی کہ نمیبیا میں ہیریرو اور ناما قبائل کے لوگ جرمن نوآبادیاتی حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے تو جرمن فوجی کمانڈر جنرل لوتھر وان تروتھا نے ان کی بغاوت کو انتہائی بے رحمی سے کچل دیا تھا۔

کراؤمے کا کہنا تھا کہ جنرل تروتھا کے اس اقدام کو تاریخ کی کتابوں میں بیسویں صدی کی پہلی نسل کشی کہا گیا ہے۔کراؤمے کے مطابق ان کی فلم افسانوی مگر تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ جس میں الیگزانڈر ہوفمان نامی ایک افسانوی کردار بطور انتھالوجسٹ اس جرمن نوآبادی کے ایک تحقیقی دورے پر نکلتا ہے اور نسل کے موضوع پر کی جانے والی اپنی نام نہادتحقیق کے لیے مردہ انسانوں کی کھوپڑیاں جمع کرنا شروع کرتا ہے۔اس تجربے کے دوران وہ جرمن پروٹیکشن فورس کے ہاتھوں نمیبیا کے قبائل کی نسل کشی کا مشاہدہ بھی کرتا ہے۔ یہ حفاظتی دستے سن 1904 اور سن 1908 کے درمیان نمیبیا کے قبائل ہیریرو اور ناما سے جرمن سلطنت کو محفوظ رکھنے کے لیے تشکیل دیے گئے تھے۔

الیگزانڈر ہوفمان اس کے باوجود نسلی تفریق کی بنیادوں پر کیے جانے والے ان مظالم کو نہ صرف جائز سمجھتا ہے بلکہ اس کی تحقیق پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں۔کراؤمے کے مطابق فلم کا پہلا سین دل دہلا دینے والا ایک منظر ہے، جس میں ایک جرمن سائنسدان فریڈرش برلن کی ولہیلم یونیورسٹی، جو اب ہمبولڈ یونیورسٹی کہلاتی ہے، کے ایک لیکچر ہال میں جرمن اور افریقی نسل کے انسانوں کی کھوپڑیوں کی پیمائش کرتے دکھایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button