خواص ادویہ,سرس-حکیم عدنان حبان نوادرؔ رحیمی شفا خانہ بنگلور
اس درخت کے تمام اجزاء کئی قسم کے امراض میں مفید ہیں۔
مختلف نام: اردو سرس، ہندی، بنگالی سرس ، فارسی درخت ذکریا، عربی سلطان الاشجار، مرہٹی چچوا سرس ،چی چولا، گجراتی سریرس، تامل داگھے، تیلگو درشنا، سنسکرت کیسنیا ،سوکا پشپا، لاطینی البیزیا لیبیکس اور انگریزی میں سرس ٹری (Siris Tree) کہتے ہیں۔
مقام پیدائش: تمام ہندوستان ، پاکستان اور شمالی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔
شناخت: اس کی اونچائی 35سے 65 فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کا تنا بہت لمبا نہیں ہوتا۔ کچھ اونچا ہوکر ہی اس کی شاخیں نکل جاتی ہیں۔ اس کی چھال آدھا انچ موٹی اور کچھ بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔ اس میں بہت چھوٹی چھوٹی دراڑیں ہوتی ہیں۔اس میں 3سے10 انچ تک لمبے اور چوڑے پتوں کے جوڑے لگتے ہیں۔ اس میں نہایت خوبصورت سفید رنگ کے خوشبودار پھول لگتے ہیں۔پھولوں کے جھڑ جانے کے بعد پھلیاں لگتی ہیں جو چھ انچ سے دس انچ تک لمبی اور دو انچ کے لگ بھگ چوڑی ہوتی ہیں۔ان کی رنگت پہلے ہری پھر پیلی ہو جاتی ہے۔ان پھلیوں میں آٹھ سے بارہ عدد تک بیج ہوتے ہیں۔سردی کے موسم میں اس کے پتے گر جاتے ہیں اور پھاگن چیت میں نئے نکل آتے ہیں۔
چیت بساکھ میں اس میں پھول لگتے ہیں۔ بھادوں پھلیاں لگنی شروع ہو جاتی ہیں اور سردی کے موسم میں پک جاتی ہیں۔ ان سے کیکر کی طرح ایک قسم کا گوند نکلتا ہے جو پانی میں گھل جاتا ہے۔اس کی چھال میں رال اور کتھا میں کام آنے والے مادے پائے جاتے ہیں۔یہ درخت دو قسم کا ہوتا ہے۔سیاہ و سفید۔سفید کے بیج بادامی رنگ کے اور سیاہ کے سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں۔اس کی سیاہ قسم نایاب ہوتی ہے۔
مزاج: گرم و خشک درجہ دوم۔مقدار خوراک: چھال 5گرام سے 6گرام اور بیج 2گرام سے3 گرام۔
افعال: بیرونی طور پر حابی، محلل اور مجفف۔
فوائد: مغلظ منی، مقوی دندان، خنازیری امراض میں مفید ہے۔ اس درخت کے تمام اجزاء کئی قسم کے امراض میں مفید ہیں۔
مضر: خشک مزاج والوں کیلئے مضر ہے۔چھال پانی میں پکاکر کلیاں کلیاں کرنے سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں اس کا عرق امراض جلد میں مفید اور قابل دید ہے، بیج مقوی باہ اور مغلظ منی ہیں۔
برائے نزلہ: تخم سرس کو اگر پانی میں پکاکر ناک میں سڑکیں تو زلہ کے لئے مفید ہے، اگر تخم سرس کو باریک پیس کربطور نسوار سونگھا جائے تو درد سر رفع ہوکر مادہ خارج ہوتا ہے اور دماغ ہلکا ہوجاتا ہے۔
برائے قوت باہ: تخم سرس کو باریک سفوف بناکر نہار منھ گائے کے دودھ سے تین گرام کھانے ے قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے اور منی کو گاڑھا کرتا ہے، گوشت کے ہمراہ پکاکر کھانا بھی مفید ہے۔
دردسر: اس کے بیجوں کو باریک پیس کر بطور نسوار استعمال کرنے سے ہر قسم کا درد دور ہو جاتا ہے اور چھینکیں آ کر درد کو آرام آ جاتا ہے۔
جسم کے کسی حصہ کا سن ہونا: اس کی چھال کو سایہ میں سکھا کر سفوف بنائیں۔ یہ ایک گرام سفوف کو گائے کے گھی 25گرام میں ملا کر چٹائیں۔کچھ عرصہ استعمال کرنے سے فائدہ ہو جاتا ہے۔منہ ٹیڑھا ہو جانے کا عارضہ ہو تو اس کے لئے بھی مفید ہے۔
امراض چشم: اس کے تنے کو کھود کر اس میں مناسب سرمہ سیاہ کی سالم ڈلی 41دن رکھنے سے مدبر ہو جاتی ہے۔اس کو عرق گلاب میں پیس کر آنکھوں میں بطور سرمہ لگانے سے تمام امراضِ چشم کو فائدہ ہوتا ہے۔
درد کان: بیج سرس پانچ گرام کو تلی کے تیل سو گرام میں جلا لیں۔پھر چھان کر نیم گرم چار پانچ بوند کان میں ڈالیں۔درد کان کو آرام آ جاتا ہے۔ امراض دندان:سرس کی چھال کو پانی میں جوش دے کر چھان کر پھٹکری سفید کی چٹکی ملا کر کلیاں کرنے سے دردِ دندان و پائیوریا کو آرام آ جاتا ہے۔
کرم معدہ: سرس کے پتوں کا رس یا پھولوں کا پانی روزانہ5 سے 10گرام روزانہ پینے سے پیٹ کے کیڑے دور ہو جاتے ہیں۔فسادِ خون: سرس کی پتیوں کا رس 5سے 10گرام پینا خارش، پھوڑے اور پھنسیوں کیلئے مفید ہے۔خنازیر کیلئے بھی اس کے 10گرام رس کا روزانہ استعمال بہت ہی مفید ہے۔
سفید داغ: سرس کے بیجوں کا تیل نکلوا لیں اور سفید داغوں پر لگائیں۔سفید داغ دور ہو جاتے ہیں۔
بچھو کا کاٹا: سرس کے بیج کا سفوف پانی میں پیس کر ڈنک کے مقام پر لیپ کریں۔اس سے زہر کا اثر دور ہو جاتا ہے۔
روغن سرس: سرس کے پتے ،چھال ،پھول ،جڑ ،بیج ہر ایک برابر برابر لے کر آٹھ گنا پانی میں 24 گھنٹے بھگو رکھیں۔پھر قلعی دار دیگچہ میں نرم آگ پر پکائیں۔ جب پانی ایک چوتھائی حصہ باقی رہ جائے تو مل چھان لیں اور اس میں پانی کے برابر تلی کا تیل ڈال کر پکائیں۔جب پانی جل کر تیل رہ جائے تو اسے چھان کر رکھ لیں۔جوڑوں کے درد ،کسی انگ کے مارے جانے، منہ ٹیڑھا ہوجانے اور خارش پر اس کی نیم گرم مالش کریں۔ بے حد مفید ہے۔



