سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

اکسیر صحت-مکوہ: دوا بھی غذا بھی

اصل میں مکوہ یا اس کا ساگ جڑی بوٹی کی ایک قسم ہے

اصل میں مکوہ یا اس کا ساگ جڑی بوٹی کی ایک قسم ہے جسے ساگ، سبزی یا ترکاری کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ زمانۂ قدیم سے ہی اطباء کے نزدیک مکوہ کے ساگ کو اس کی طبی افادیت کی بناء پر اہمیت حاصل رہی ہے یہ کئی بیماریوں کا علاج ہے۔ اس کا ایک نام عنب الثعلب بھی ہے۔ اور انگریزی میں اس کو گارڈن نائٹ شیڈ کہتے ہیں۔ مکوہ کا ساگ بھی دوسرے ساگوں کی طرح ساگ کی ایک قسم ہے جیسے سرسوں کا ساگ، خرفے کا ساگ اور پالک کا ساگ وغیرہ ہوتا ہے اسی طرح مکوہ کا بھی ساگ ادرک اور گرم مصالحہ اور گھی کے ساتھ پکا کر بطور دوا بھی کھایا جاتا ہے جو انتہائی مفید ہے۔

یونانی طب میں اس کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یونان میں بھی بطور ادویات اس کا استعمال قدیم زمانے سے ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ حکماء اور اطباء معدے،آنتوں، جگر، پتے اور گردوں وغیرہ کی بیماریوں اور اورام یعنی سوجن کو ختم کرنے کے لئے بطور دوا تجویز کرتے ہیں۔

شناخت

مکوہ کا پودا جھاڑی نما بہت ساری شاخوں والا بغیر کانٹوں کے خودرو ہوتا ہے یعنی خود ہی اگتا ہے اور کبھی کاشت بھی کیا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی ایک سے تین فٹ تک ہوتی ہے۔ اور اس کا رنگ گہرا سبز ہوتا ہے۔ اس کے پھل گچھوں کی صورت میں انگور نما پہلے پیلے، سبز ہوتے ہیں اور پکنے کے بعد ان کا رنگ تبدیل ہوکر پہلے زرد مائل اور پھر سرخ ہوجاتے ہیں۔ کچی حالت میں ان کا مزا تلخ ہوتا ہے اور پکنے کے بعد ان کا مزا شیریں ہو جاتا ہے۔ اس کے خشک شدہ پتے یا تازہ ہرے پتے ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے تازہ پتوں کی بھجیا بنا کر بطور دوا بھی استعمال کی جاتی ہے۔

غذائی اجزا: اس کے غذائی اجزاء میں فاسفورس، فولاد، کیلشیم، نمکیات اور وٹامنز میں وٹا من اے، وٹا من سی، وٹا من ای اور وٹامن ایچ وغیرہ شامل ہیں۔

طبی افادیت

یہ غذا کے ساتھ ساتھ ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اس لئے اس کا عرق بھی طبی افادیت کی بناء پر بہت مشہور اور مستعمل ہے۔ اس کا مزاج سرد خشک درجہ دوم ہے لیکن کچھ اطباء کے نزدیک اس کا مزاج گرم تصور کیا جاتاہے۔ مکوہ کئی امراض میں مفید ہے۔ جس کا استعمال دونوں طرح کیا جاسکتا ہے۔

سب سے بڑی اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ محلل اورام ہے۔ یعنی جسم کے مختلف حصوں یا اعضاء کے ورم یا سوجن کو دور کرنے میں انتہائی مفید اور کامیاب طریقۂ علاج ہے۔ زمانۂ قدیم سے ہی حکماء اور اطباء کے ہاں اور ام کم کرنے میں اس کو بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے، کان کے درد میں بھی اس کا عرق مفید ہے۔

مکوہ کا ساگ سوجن یا ورم کم کرنے یا ختم کرنے کے لئے اکسیر ہے۔ یہ جسم کی اندورونی یا بیرونی دونوں قسم کی سوجن کا کامیاب علاج ہے۔ اس کا استعمال اعتدال سے ہی کرناچاہئے۔ پیٹ میں پانی بھر جائے تو اس کا استعمال مفید ہے۔ جگر اورورم معدہ اور استسقاء کی بیماریوں کے علاج کیلئے اکسیر ہے۔ اس کا استعمال پیٹ کے کیڑوں میں بھی کارآمد ہے۔

مثانہ کے امراض میں مکوہ مضر ہے۔ لیکن مصلح کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں۔اس کا جوشاندہ بھی بناکر استعمال کیا جاتا ہے۔ گرم مزاج والے افراد کے لئے اس کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مکوہ کے ساگ کو پیس کر لیپ کرنے سے سوجن ختم ہو جاتی ہے۔ قبض کا علاج بھی ہے۔ عرق مکوہ کان، ناک اور آنکھ کی کچھ بیماریوں میں بھی مفید ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button