میرٹھ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) میڈیا اطلاعات کے مطابق میرٹھ میونسپل کارپوریشن نے شائد ہی کبھی اتنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے ہوںگے، جتنے گزشتہ دو ماہ کے دوران جاری کردیئے گئے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کورونا وبا نے کس قدرتباہی مچائی ہے ۔ واضح رہے کورونا وبا کے دوران میرٹھ کے سورج کنڈ شمشا ن گھاٹ میں اتنی لاشیں پہلے شایدہی دیکھی گئی ہوں گی ۔
رپورٹ کے مطابق لاش جلانے کے لئے جب جگہ کم پڑ گئی، تو اس کے لئے الگ سے انتظام کرنے پڑے ، جس سے شمشان کے قریب رہنے والے لوگوں نے شکایت کی کہ لاش جلائے جانے کی راکھ ان کے گھر وں تک پہنچ رہی ہے، اور انتظامیہ کوئی دوسرا متبادل تلاش کرے۔
وہیں میرٹھ میونسپل کارپوریشن پر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا بوجھ بڑھا۔اس سال ماہ اپریل اور اب تک مئی کے مہینے میں اتنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو چکے ہیں جتنے پہلے کبھی جاری نہیں ہوئے ہیں۔خبر کے مطابق طبی اہلکار نے بتایا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کے لئے اپریل میں 859 ، اور مئی میں اب تک 1017درخواست موصول ہو چکی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال مارچ سے لے کر مئی تک یعنی تین مہینوں میں 962 ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری ہوئے تھے،لیکن اس مرتبہ صرف اپریل مہینے میں 859 اور مئی میں اب تک 1017 ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کئے جانے کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جس سے کرونا کی ستم خیزی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اگر اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو اس سال یکم مارچ سے 20 مئی تک یعنی کل 71 روز میں 2732 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں ،یعنی روزانہ لگ بھگ 38 درخواستیں موصول ہورہی ہیں ،جو گزشتہ سال کے مقابلہ تین گنا ہیں۔ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے آن لا ئن بھی درخواست دی جاسکتی ہے ۔



