کشمیر میں جمہوریت کا مطلب ’صرف 3 خاندان‘ وزارت داخلہ کی رپورٹ پر محبوبہ مفتی سخت برہم، امیت شاہ پرکرارا حملہ
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت پر حملہ کیا ہے
سری نگر، 4جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر کے بارے میں وزارت داخلہ کی خصوصی ’رپورٹ‘ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آرٹیکل 370 پر بھی بیان دیا۔ محبوبہ نے سری نگر میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے 370 اور 35 اے کو ہٹاتے وقت کوئی کمیٹی نہیں بنائی تھی، پھر لداخ میں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے پر کمیٹی بنانے کا ڈرامہ کیوں کر رہی ہے۔محبوبہ مفتی نے راجوری میں دہشت گردانہ حملے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ محبوبہ نے کہاکہ جموں کے لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا، لیکن اب اُن پر حملے ہو رہے ہیں، تو بی جے پی تماشا دیکھ رہی ہے۔جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 4-5 سالوں سے حکومت کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ واقعہ (دہشت گردانہ حملہ) کیوں پیش آیا؟
محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال اب بہت تشویشناک ہے۔ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر سے متعلق وزارت داخلہ کی رپورٹ پر بھی رد عمل ظاہر کیا۔ بی جے پی پر دھوکے کی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے محبوبہ مفتی نے بدھ کو کہا کہ بی جے پی کی دھوکہ دہی کی سیاست نے وزارت داخلہ کے وقار کو بھی مجروح کردیا۔محبوبہ مفتی نے مرکزی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے اس حصے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ’ جموں و کشمیر میں پہلے جمہوریت کا مطلب صرف تین خاندان تھا‘، بی جے پی کی سابق اتحادی (پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی) نے خود بی جے پی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے بی سی سی آئی سکریٹری جے شاہ کی مثال دی، جو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ بی جے پی کی دھوکہ دہی کی سیاست نے وزارت داخلہ کو بھی گھسیٹ لیا ہے۔ میں نے وزارت داخلہ کی رپورٹ دیکھی ہے، اس رپورٹ سے نہ صرف جھوٹ کی بو آتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی سربراہی والے ایک اہم پورٹ فولیو کو بھی بدنام کر رہی ہے۔



