بیلجیم کی سپریم کورٹ نے میہول چوکسی کی اپیل خارج کر دی، انڈیا حوالگی کے امکانات
چوکسی بھارت کے 13 ہزار کروڑ روپے (PNB) گھوٹالے کا مرکزی ملزم ہے۔
بیلجیم:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بیلجیم کی سپریم کورٹ، کورٹ آف کیسیشن نے مفرور ہیروں کے تاجر میہول چوکسی کی وہ اپیل مسترد کر دی جس میں اس نے اپنی ممکنہ حوالگی کو چیلنج کیا تھا۔ چوکسی بھارت کے 13 ہزار کروڑ روپے کے پنجاب نیشنل بینک (PNB) گھوٹالے کا مرکزی ملزم ہے۔
فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کورٹ آف کیسیشن کے ترجمان ایڈووکیٹ جنرل ہنری وینڈرلنڈن نے بتایا کہ عدالت نے اپیل کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا ہے، اس لیے نچلی عدالت کے تمام فیصلے برقرار رہیں گے۔ ان کے مطابق انٹورپ کی کورٹ آف کیسیشن نے بھی بھارت کی جانب سے دائر اضافی حراست اور حوالگی کی درخواست کو قابلِ عمل قرار دیا۔
انٹورپ کی اپیل کورٹ کے چار رکنی پراسیکیوشن چیمبر نے 29 نومبر 2024 کو اس نتیجے پر پہنچا کہ ضلعی عدالت نے جو وارنٹ گرفتاری قابلِ نفاذ قرار دیے تھے، ان میں کوئی قانونی خامی موجود نہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ شواہد کی بنیاد پر چوکسی کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ یا ناروا سلوک کا کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں ہے، اور نہ ہی اسے منصفانہ ٹرائل سے محروم کیے جانے کا اندیشہ ہے۔
میہول چوکسی جنوری 2018 میں انٹیگوا و باربوڈا فرار ہو گیا تھا۔ بعدازاں اس کی بیلجیم میں موجودگی اور طبی علاج کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے بعد بھارت نے 27 اگست 2024 کو ممبئی کی خصوصی عدالت کے جاری کردہ وارنٹ کی بنیاد پر بیلجیم کو باضابطہ حوالگی کی درخواست بھیجی تھی۔
بیلجیم کی سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد چوکسی کی بھارت حوالگی کے امکانات پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں، اور قانونی عمل اب حتمی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔



