عرق النساء کی تکلیف، ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے اپنی جگہ سے کھسکنے کے باعث ہوتی ہے۔ یہ کھسکے ہوئے مہرے شیاٹک عصبہ (Sciatic nerve) کو دباتے ہیں۔ یہ انسانی جسم کا سب سے موٹا عصبہ (نرو) ہے جو کمر سے لے کر نیچے پائوں تک جاتا ہے۔ جب یہ عصبہ دبتا ہے تو بہت شدید قسم کا درد مریض محسوس کرتا ہے۔ بعض اوقات شدید کھنچاؤ تو ہوتا ہے اور مریض چلنے پھرنے سے معذور ہو جاتا ہے۔
عام طور پر بالغ افراد کی ریڑھ کے بالکل نچلے حصے میں پانچ ہڈیاں ہوتی ہیں جنہیں Lumbar Vertebrae کہتے ہیں۔ شیاٹک عصبہ حرام مغز کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جس کے دو کام ہوتے ہیں، ایک یہ کہ یہ عصبہ ٹانگوں اور پائوں کو حرکت دینے میں مدد کرتا ہے اور اس کا دوسرا کام یہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے ٹانگوں میں رونما ہونے والے امور کا پتہ چلتا ہے۔ جسے ٹانگوں میں چوٹ لگ جائے، رگ چڑھ جائے یا سردی گرمی محسوس ہو تو یہی عصبہ دماغ کو پیغام بھیج کر اس کا احساس دلاتا ہے۔
عرق النساء وہ درد ہے جو شیاٹک عصبہ کو پہنچنے والے نقصان یار گڑ سے پیدا ہوتا ہے اور اس درد کی شروعات سرین کے حصوں سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کہ درد میں مبتلا افراد کو متاثر ٹانگ میں چھری لگنے جیسا درد محسوس ہوتا ہے یا ٹانگ میں کھنچاؤ ہوتا ہے اور اس کی وجہ شیاٹک عصبہ پر پڑنے والادباؤ ہوتا ہے۔ یہ حالت کئی ہفتوں تک رہتی ہے بعض اوقات مریض حرکت کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے ٹانگوں میں کمزوری کے علاوہ پیشاب پر قابو پانے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔ اگر مریض عرق النساء سے شفایاب ہو بھی جائے تو جوتے پہن کر چلنے یا غلط پوزیشن میں ادیر تک بیٹھا ر ہنے یا غیر آرام دہ بستر سے درد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
عموماً چالیس سال کی عمر کے بعد عرق النساء سے سابقہ پڑ سکتا ہے۔ زیادہ تر مریض 30 سے 50 سال کی درمیانی عمر کے ہوتے ہیں جو لوگ پہلے سے کمر کے درد کا شکار ہیں، انہیں زیادہ عرق النساء کا خطرہ ہو تا ہے۔ جم میں بھاری وزن اٹھانے سے بھی ریڑھ کی ہڈی اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہے۔ عام طور پر عرق النساء کا مرض اس وقت لاحق ہوتا ہے جب ریڈھ کی ہڈی مہرے کی نرم جیلی کھسک جائے ۔ عرق النساء کے دیگر اسباب میں غلط انداز اٹھنا، بیٹھنا خون میں بندکی بننا، جوڑوں میں درد رہنا، بعض اوقات عرق النساء یا آرتھرائٹس اور اعصابی درد کی تشخیص ممکن نہیں ہوتی۔ ہر دس میں سے ایک شخص ایسا بھی ہوتا ہے جس کی ریڑھ میں ایک اضافی ہڈی ہوتی ہے جس کی وجہ جینیاتی غیر معمولی پن ہے۔
| اردو دنیا واٹس ایپ گروپ جوائین کرنے کے لئے لنک کلک کریں |
اکثر و بیشتر اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا اور لوگوں کو اپنی پوری زندگی اس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا لیکن بعض لوگوں میں اس اضافی ہڈی کی وجہ سے کمر کا شدید درد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ز عرق النساء کے علاج میں پوری توجہ درد دور کرنے پر دیتے ہیں۔ وہ انہیں درد کش دوائوں کے استعمال کا مشور ہ دیتے ہیں یا اس عصبہ کے قریب اسٹیر ونڈ کا انجکشن لگوانے کی بات کرت ہیں بعض ڈاکٹر فزیو تھراپی اور وزن کم کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں تا کہ درد کی شدت کم ہو سکے۔
سرجری کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب اس ہڈی یا ڈسک کو نکالنا ضروری ہو جائے جو عصبہ کو دبار ہی ہوتا ہم یہ کام صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب مریض کے پٹھے کمزوری محسوس کریں یا اسے اپنے بول ور از پر قابو نہ رہے۔ اکثر و بیشتر عرق النساء کی تکلیف چند ہفتوں میں ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن اگر کسی اندرونی خرابی مثلاً ہدی بڑھ جانے کا مسئلہ در پیش ہو تو اسے بہتر علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
انگریزی علاج میں درد کش ادویات انجکشن یا آپریشن ہی علاج سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ کچھ احتیاطی تدابیر کے ساتھ طب نبوی، طب یونانی یا دیسی اودیات کے ذریعہ علاج کیا جائے تو پرانے سے پرانا مریض صحت یاب ہوسکتا ہے۔ چند ہفتوں میں ہی مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ عرق النساء کے مریضوں کو ٹھنڈی اور بادی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے۔
طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908 |



