بین الاقوامی خبریںسرورق

Microsoft کے خلاف مقدمہ: غزہ میں نسل کشی میں مدد دینے پر سنگین الزامات

مائیکروسافٹ پر نسل کشی میں معاونت کا الزام

Azure اور AI ٹیکنالوجی کا جنگ میں استعمال

غزہ،۱۰؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ میں ایک فلسطینی سیاسی مصنف اور فارمیسی کے مالک ذو الفقار سویرجو نے مائیکروسافٹ کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ پر مقدمہ دائر کریں گے کیونکہ وہ غزہ میں قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی میں معاون رہی ہے۔

سویرجو کے مطابق ان کا میڈیکل اسٹور مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کی تمام ادویات ضائع ہو گئیں اور خاندان کی زندگی شدید متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مائیکروسافٹ جیسے عالمی ادارے کی شمولیت اسرائیلی جنگی جرائم میں ایک سنگین پہلو ہے جس پر قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

 انسانی حقوق کی تنظیم کا ردعمل:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم اسکائی لائن انٹرنیشنل نے مائیکروسافٹ سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں اسرائیلی جنگی کوششوں کو ٹیکنالوجی، کلاؤڈ سروسز، اور AI کے ذریعے فعال طور پر سپورٹ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ:”مائیکروسافٹ Azure کلاؤڈ، AI اور بائیومیٹرک نگرانی کے آلات کے ذریعے اسرائیلی فوج کو جنگی کارروائیوں میں سہولت دے رہا ہے، جو کہ جنگی جرائم اور نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔”

 AI ٹیکنالوجی اور لیونڈر سسٹم:

"لیونڈر” اسرائیلی فوج کا ایک AI-چلنے والا ہدف سازی کا نظام ہے جو براہ راست مائیکروسافٹ کے انفراسٹرکچر پر انحصار کرتا ہے۔ یہ نظام شہریوں کو نشانہ بنانے، فوری حملے کرنے، اور بڑے پیمانے پر نگرانی جیسے کام انجام دیتا ہے۔

 مالی امداد:

 اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مائیکروسافٹ نے قابض اسرائیلی فوج کو کم از کم 10 ملین ڈالر کی انجینئرنگ اور تکنیکی مدد فراہم کی ہے، جس سے 2024 کے دوران ان خونی معاہدوں میں مزید لاکھوں ڈالر کے معاہدوں کی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

 عالمی قانون کی خلاف ورزی:

جنوری 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے قرار دیا کہ اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے مترادف ہو سکتے ہیں، اس کے باوجود مائیکروسافٹ اسرائیلی افواج کو جنگی جرائم میں استعمال ہونے والے اوزار فراہم کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ کیس دنیا کے سامنے ایک واضح مثال کے طور پر آ رہا ہے کہ کس طرح بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں نسل کشی جیسے انسانیت سوز جرائم میں معاونت کر سکتی ہیں۔ اگر یہ مقدمہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ مستقبل میں دیگر ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک قانونی مثال بھی قائم کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button