دنیا بھر کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی درد شقیقہ یعنی مایئگرین سے لوگ خاص طور پر خواتین متاثر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین اٹھارہ سے تیس سال کی عمروں کے ذمرے میں شامل ہیں۔ لگ بھگ سو میں سے 69 خواتین مایئگرین کی شکار ہیں۔ہندوستان ڈیلی سے بات کرتے ہوئے ایک کشمیری نوجوان لڑکی نے درد شقیقہ کو لیکے اپنے تجربے کا اظہار کرتے ہوے کہا، ” مجھے بہت کم عمری سے ہی سر میں شدید درد ہوا کرتا تھا۔ لیکن تب مایئگرین کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں تھی۔ پھر جب میں دسویں جماعت میں داخل ہوئی تو تب مجھے معلوم ہوا کہ مجھے vascular migraine ہے۔ اور میں نے پھر چھ مہینے کی دوائی کا کورس شروع کیا۔
بچپن سے مجھے بہت پرہیز کرنا پڑھا۔ مجھے بھی کبھی کبھی شوق ہوتا تھا کہ میں بھی چپس وغیرہ کھاؤں لیکن ڈاکٹر نے مجھے جنک فوڈ بند رکھا تھا۔ میں ابھی migraine کے attacks آتے ہیں۔ زیادہ جب میرا PMS چل رہا ہوتا ہے۔ اور میں فون کا استعمال زیادہ عرصے تک نہیں کر پاتی۔”حالیہ دنوں میں کشمیر میں بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے مایئگرین سے متاثرہ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کچھ صحت سے وابستہ تحقیقات کے مطابق کچھ لوگوں کے لیے، موسم کی تبدیلی دماغی کیمیکلز میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہے، بشمول serotonin ، جو درد شقیقہ کا سبب بن سکتی ہے۔ موسم سے متعلق محرکات دوسرے محرکات کی وجہ سے ہونے والے سر درد کو بھی خراب کر سکتے ہیں۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی درد شقیقہ موسم کی وجہ سے شروع ہوتی ہے، تو آپ سمجھ بوجھ سے مایوس ہو سکتے ہیں۔کشمیر سے جڑی کچھ رپورٹس میں آیا ہے کہ 19-45 سال کے نوجوان بالغوں میں درد شقیقہ کی شرح 45.69 فیصد ہے۔ جس میں خواتین 55.44% اور مرد 32.79% متاثر ہیں۔
مایئگرین کیا ہے؟
ایک شدید قسم کا درد جس میں اکثر ملتی اور الٹی محسوس ہوتی ہے مایئگرین کہلاتا ہے۔ درد شقیقہ کا سر درد بعض اوقات انتباہی علامات کے بغیر ہوتا ہے۔ محرکات میں ہارمونل تبدیلیاں، کھانے پینے کی کچھ اقسام، تناؤ اور ورزش وغیرہ شامل ہیں۔ یہ درد عام طور پر سر کے ایک طرف شدید سنسیشن کا سبب بن سکتا ہے۔ درد شقیقہ کئ گھنٹوں سے لیکر کئ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اور درد اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ انسان کی روز مرہ کی زندگی اور سرگرمیاں اثر انداز ہوسکتی ہیں۔



