سوڈان ،25؍اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد وزیراعظم عبداللّٰہ حمدوک کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، خرطوم میں شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی، جمہوریت پسند گروپ نے ہڑتال اور سول نافرمانی کا اعلان کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد وزیر صنعت، وزیر اطلاعات، وزیراعظم کے میڈیا ایڈوائزر کے علاوہ ترجمان خود مختار کونسل، گورنر خرطوم گرفتار ہونے والے رہنماوں میں شامل ہیں، ملک میں مواصلات کی رسائی محدود کر دی ہے جبکہ سوڈانی فوج نے خرطوم آنے والی تمام سڑکیں، پل بلاک کر دیئے ہیں۔
سوڈانی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے سوڈانی وزیراعظم کو فوجی بغاوت کی حمایت سے انکار پر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوڈانی فوج کی جانب سے گھر میں نظر بند وزیراعظم پر فوجی بغاوت کی حمایت کا بیان دینے پر دبائو ڈالا جارہا ہے۔
نامعلوم عسکری فورس نے چار وزرا کے علاوہ خود مختار کونسل کے شہری رکن محمد الفکی کو بھی حراست میں لے لیا۔گرفتار ہونے والوں میں کابینہ کے امور کے وزیر خالد عمر یوسف، وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ فیصل محمد صالح اور وزیر صنعت ابراہیم الشیخ کے علاوہ 3 سیاسی جماعتوں کے ذمے داران بھی شامل ہیں۔ یہ جماعتیں سوڈانی کانگریس پارٹی، البعث العربی پارٹی اور یونینسٹ ایسوسی ایشن ہیں۔
اسی طرح سیکورٹی فورسز نے دارالحکومت خرطوم کے ہوائی اڈے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں جب کہ ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن کی سروس بھی بند ہے۔
خبر ایجنسی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوڈان میں فوج اور سول حکام کے درمیان کئی ہفتوں سے کشیدگی ہے،شہریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد ہے، بغاوت کی اطلاعات پر خرطوم ایئرپورٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔
آزادانہ انتخابات کے اجرا کے لیے نئی حکومت تشکیل دی جائے گی: سوڈانی فوج
سوڈانی فوج کے ایک جنرل حنفی عبداللہ کا کہنا ہے کہ آج ہونے والی گرفتاریاں ملک میں جمہوریت کا راستہ درست کرنے کے لیے عمل میں آئیں۔ یہ بیان عبداللہ حمدوک کی حکومت کے گرفتار وزرا اور ذمہ داران کی فہرست میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔حنفی نے کہا کہ ایک سویلین حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں آزاد اور شفاف اہلیت کے حامل افراد شامل ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عسکری اقدامات اور گرفتاریوں میں ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو آئینی دستاویز پر عمل درامد میں رکاوٹ بن رہے تھے۔عبوری کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان آج کسی وقت اپنے خطاب میں ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کریں گے۔
سوڈان میں فوجی بغاوت، امریکہ کا اظہار تشویش
سوڈان میں فوجی بغاوت کی اطلاعات پر امریکہ نے اظہار تشویش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے سوڈان کی امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
افریقہ کیلئے امریکی خصوصی نمائندے جیفری فیلٹ مین کا کہنا ہے کہ سوڈان میں فوجی بغاوت کی اطلاعات پر امریکا کو تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی بغاوت سوڈانی آئین میں مداخلت ہوگی، فوجی بغاوت سے سوڈان کیلئے امریکی امداد خطرے میں پڑ جائے گی۔



