
دودھ قدرت کا کرشمہ اور جنت کی نعمت
پیارے نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر دودھ تمہیں تمہارا دشمن بھی پیش کرے تو انکار مت کرو
پیارے نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر دودھ تمہیں تمہارا دشمن بھی پیش کرے تو انکار مت کرو کیوں کہ یہ جنت کی نعمتوں میں سے ہے۔اشرف المخلوقات انسان کے لئے دودھ قادرِ مطلق کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے، انسان اگر تندرست ہے تو وہ بندگانِ خدا کی خدمت کے ساتھ ہی ساتھ عبادت اور بہت سے نیک کام بھی انجام دیتا ہے۔
بکری کا دودھ: بکری کے دودھ کو گائے بھینس اور اونٹ کے دودھ کے مقابلہ میں زیادہ مفید پایا گیا ہے ۔مغربی تہذیب و تمدن کے اثر سے جہاں ہماری سادہ زندگی، اور بے تکلف بود و باش کی خصوصیات زندہ در گور ہو رہی ہیں وہیں غذا کے معاملہ میں بھی ہماری عادتیں خراب ہو رہی ہیں ۔وہ نوجوان طبقہ جس نے تعلیم حاصل کی ہے ،یورپی تمدن کے زیر اثر آکر چائے ،کافی، مکھن اور پیسٹری کوہی اپنی اصل غذا سمجھنے لگا ہے ۔
تمام مشروبات سے بہتر: اس ناقص العقل طبقہ کے سامنے اس غریبانہ نعمت کے متعلق یہ بتا دینا ضروری ہے کہ وہ دوپہر کے ناشتہ اور بعد دوپہر چائے کی جگہ کم از کم ایک مہینہ بکری کا دودھ استعمال کریں اور قدرت کے اس عجیب و غریب عطیہ کا تماشہ دیکھیں۔امریکہ کے ماہر غذائیات ڈاکٹر ڈگلس تھامس نے بکری کے دودھ کو تمام دوسرے مشروبات کے مقابلہ میں افضل اور اعلیٰ ترین قرار دیا ہے۔
بکری کے دودھ میں ایسے نمکیات پائے جاتے ہیں جو انسانی تندرستی کو قائم رکھتے ہیں ۔اس میں فلورین بکثرت ہوتا ہے جو انسانی ہڈیوں کو نشو و نمااور دانتوں کی مضبوطی کے لئے بہت ضروری ہے ۔
دودھ آنکھوں کیلئے اکسیر: آنکھوں کی باریک اور نازک طبقوں کی پرورش کے لئے فلورین کو زبردست اہمیت حاصل ہے اس کی کمی سے آنکھوں میں بہت سے امراض پیدا ہو جاتے ہیں ۔
ہڈیوں کی مضبوطی: بکری کے دودھ میں دوسرا جز جو پایا جاتا ہے وہ میکین شئم ہے۔ یہ ہڈیوں خصوصاً ریڑھ کی ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اس کی کمی کی وجہ سے کبڑاپن اور ہڈیوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہوجاتا ہے، اور انسان کی زندگی بے لطف ہوجاتی ہے۔ زندگی کا دار و مدار ریڑھ کی ہڈیوں کی مضبوطی پر ہے۔ یہ نمک یعنی میکنیشئم پالک، شفتالو، مغز بادام، ناریل، لیموں، انجیر، انگور، کھجور، مکئی کا بھٹہ وغیرہ میں بھی پایا جاتا ہے، چنانچہ اس مقصد کے مدِ نظران چیزوں کا استعمال بہت ہی مفید ہے۔



