منوج سائیں نے سرسوتی کو قتل کرنے کے بعد عریاں سیلفی لی،پولیس پوچھ گچھ میں کئی چونکا دینے والے انکشافات
منوج سائیں جس نے ممبئی سے متصل تھانے کے میرا روڈ پر سرسوتی ویدیا کا بے دردی سے قتل کیا تھا
ممبئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) منوج سائیں جس نے ممبئی سے متصل تھانے کے میرا روڈ پر سرسوتی ویدیا کا بے دردی سے قتل کیا تھا اور اس کی نعش کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ککر میں ابال کر شواہد کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی، پولیس کی پوچھ گچھ میں روز نئے راز کھول رہا ہے۔ممبئی سے متصل تھانے کے میرا روڈ میں اپنی بیوی سرسوتی ویدیا کا بے دردی سے قتل کرنے والے منوج سائیں نے اس کی نعش کے ٹکڑے کیے، اسے ککر میں ابال کر مکسچر میں پیس کر کتوں کو کھلایا، پولیس کی حراست میں ہے ۔پولیس کی پوچھ گچھ میں اس کے بارے میں آئےدن چونکا دینے والے انکشافات ہو رہے ہیں۔
سائیں نےاعتراف کیا ہے کہ قتل کے بعد اس نے سرسوتی کے کپڑے اتارنے کے بعد اس کی عریاں سیلفی لی تھی۔ جب پولیس نےسائیں سے پوچھا کہ سرسوتی کو قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کے کئی ٹکڑے کیوں کر دیے؟ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، سائیں نے پرسکون دماغ سے جواب دیا کہ میں ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوں، پولیس کی پوچھ گچھ میں اس نے کہا،ہاں، میں نفسیاتی پاگل ہوں۔پولیس شواہد اکٹھے کرنے کے لیے دیگر ریاستوں کے تکنیکی ماہرین کی مدد لے گی۔
منوج سائیں نے پوری پلاننگ کے ساتھ سرسوتی کو مارا ہے۔ سرسوتی کے جسم کے 35 حصے مل چکے ہیں، تاہم کئی حصوں کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے سامنے سوال یہ ثابت کرنا ہے کہ سرسوتی کا قتل منوج سائیں نے کیا تھا۔ منوج سائیں نے پہلے پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے قتل نہیں کیا تھا۔ سرسوتی نے خودکشی کر لی۔ الزام لگنے کے خوف سے اس نے نعش کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔
عدالت میں جرم ثابت کرنے میں یہی مسئلہ ہے۔
منوج سائیں کے جوابات سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس نے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی کہ پکڑے جانے پر کیا جواب دیں گے۔ ایسے میںعدالت میں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ منوج سائیں نے قتل کو کیسے انجام دیا، مقامی پولیس نے دیگر ریاستوں کے تکنیکی ماہرین کی رائے لینے کا ارادہ کرلیا ہے۔
منوج سائیں سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے پولس یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا سرسوتی اس کا پہلا شکار ہے یا اس نے ماضی میں بھی ایسے جرائم کیے ہیں؟ پولس یہ جاننا چاہتی ہے کیونکہ کچھ دن پہلے پالگھر کی جاگیر میں اسی طرح کا قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل میں قاتل کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ اسی طرح ایک خاتون کی نعش بھی پولیس کو ٹکڑوں میں ملی۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا منوج سائیں کا اس قتل سے کوئی تعلق ہے؟
سرسوتی کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے سہارا دے کر تشدد کا نشانہ بنایا
دراصل سرسوتی نوکری کی تلاش میں تھی۔ اس کے پاس رہنے گھر تھا اور نہ رشتہ دار، نہ پیسہ، نہ نوکری۔ ایسے میں یتیم سرسوتی نے نوکری کی تلاش کے سلسلے میں 2014 میں سائیں سے ملاقات کی۔ منوج نے اسے اپنے گھر میں رہنے کی پیشکش کی۔ اس کے بعد اس نے سرسوتی کا ہر طرح سے استحصال کیا۔ مجبوری میں سرسوتی نے منوج سے تھانے کے وسائی علاقے کے نزدیک نالاسوپارا ایسٹ میں واقع وجریشوری مندر میں شادی کی۔سرسوتی کے والدین نہیں تھے لیکن سرسوتی کی بہنوں نے اس رشتے کی مخالفت کی۔ لیکن سرسوتی کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔



