حزب اللہ کیخلاف مشن مکمل نہیں ہوا،یہ گرمیوں سے زیادہ گرم ہوسکتی ہیں: اسرائیل
رفح میں ہماری فوجی کارروائی امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں: اسرائیل
یروشلم، 9مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ تنازع میں شمالی اسرائیل میں مشن مکمل نہیں ہوا ہے۔ ہم شمالی اسرائیل سے بے دخل کیے گئے شہریوں کو بحفاظت اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دینے کے لیے پر عزم ہیں۔ اپنے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں گیلنٹ نے لبنان کے ساتھ دشمنی کے بڑھنے کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ موسم گرما زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں شدید فضائی حملے شروع کیے ہیں۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز اسرائیلی اہداف پر بموں سے لدے ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کی درمیانی سرحدوں کے اطراف سات ماہ سے جھڑپیں جاری ہیں اور حالیہ دنوں میں اس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں لبنان میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان اکتوبر سے تنازع جاری ہے۔
ان جھڑپوں کی وجہ سے سرحد کے دونوں اطراف دسیوں ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں اور جنگ کے شدید ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں تین مقامات پر حزب اللہ سے تعلق رکھنے والی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کارروائیوں میں رامیہ قصبے میں حزب اللہ کے اہداف پر 20 سے زیادہ حملے بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی سرحدی شہر یعرا میں نئے بنائے گئے مغربی بریگیڈ کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا اور اپنے ہدف کو درست طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔ اس نے برانیت بیرکوں میں 91ویں ڈویژن کے ہیڈ کوارٹرز کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور کم از کم 10 حملے کئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حملوں نے جنوبی لبنان کے 28 قصبوں اور دیہاتوں کو نشانہ بنایا۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا گڑھ ہے۔
رفح میں ہماری فوجی کارروائی امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں: اسرائیل
مقبوضہ بیت المقدس، 9مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان اوفیر گینڈل مین نے کہا ہے کہ اسرائیل مصری سرحد کے قریب فوجی آپریشن کرنے سے متعلق حساسیت سے آگاہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائی دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔گینڈل مین نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ فوج کی طرف سے جنوبی غزہ میں رفح بارڈر کراسنگ پر کیا جانے والا آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حماس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور پٹی میں قید افراد کو رہا نہیں کیا جاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری افواج رفح کراسنگ پر اپنی توجہ مرکوز اور محدود فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے حماس کئی سالوں سے غزہ کی پٹی میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ فوج نے کراسنگ کے آس پاس میں حماس کے 20 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور ان کے حوالے سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کے بارے میں گینڈل مین نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کے حوالے سے حماس کی تجویز ہمارے اصولوں اور موقف سے بہت دور ہے۔کل منگل کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی کو مصری سرزمین سے الگ کرنے والی رفح زمینی گذرگاہ کے فلسطینی حصے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس علاقے میں اسرائیلی فوج نے سوموارکو کارروائی شروع کی تھی۔
مصر کا خیال ہے کہ رفح میں خطرناک کشیدگی سے دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے جو بنیادی طورپراس کراسنگ پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ یہ غزہ کی پٹی کی اہم لائف لائن ہے۔ زخمیوں اور بیماروں کے علاج کے لیے باہر نکلنے کے لیے محفوظ راستہ ہے اور غزہ میں فلسطینیوں کے لیے انسانی اور امدادی امداد کے داخلے کا واحد راستہ ہے۔
مصر نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرے اور طویل المدتی اثرات کے ساتھ کشیدگی کی پالیسی سے دور رہے، جس سے غزہ کی پٹی کے اندر پائیدار جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی سخت کوششوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہوں گے۔



