سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

موبائیل موجودہ دور کا سب سے بڑا فتنہ

سورہ منافقون میں اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے کہ اے ایمان والو تمہارے مال اور اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا.بچاؤ اپنے آپ کو اپنے اہل و اعیال کو. رب العالمین نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے زندگی گزارنے کا طور طریقہ سکھایا ہے. ہدایت وضلات کے راستے کی نشان دہی بھی کی ہے. خیر وشر بھلائی اور برائی کی وضاحت بھی ہے دونوں میں سے اختیار ہے جسے چاہیں ہم چن لیں. ہماری سوچ وفکر پر منحصر ہے کی ہم کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں.

اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو انسانیت کے تحفظ وبقاء اور اسکی تعمیر ترقی وکامیابی کاضامن ہے. ہماری عزت اگر ہے تو اسلام کی وجہ سے ہے.اسلام کے ماننے والوں کو مسلمان کہا جاتا ہے.مسلمان پر کچھ پابندیاں بھی ہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا نام دین ہے. اور دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے. دین اسلام ہمیں زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کرتا ہے. سب سے اچھا ترقی یافتہ معاشرہ وسماج وہی بن سکتا ہے جہاں عمدہ تعلیم وتربیت دی جاتی ہو جہاں کا ماحول بہتر ہو. اگر ہم انسانی معاشرے کا گہرائی سے جائیزہ لیں تو ہمارا معاشرہ مختلف برائییوں وفحاشیوں میں ملوث ہے. جوان بوڑھے مرد عور تیں بچے بچیاں لڑکے لڑکیاں ایک ایسی لت میں لت پت ہیں جس سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آتا ہے .

آج اس فتنے کے دور میں سب سے بڑا فتنہ موبائیل بن چکا ہے. موبائیل کو منفی طور پر زیادہ تر نو عمر بچے بچیاں عورتیں لڑکے لڑکیاں استعمال کرتی ہیں جن کا سماجی زندگی پر بہت ہی گہرا اور برا اثر پڑتا ہے. موبائیل فون کے غلط استعمال سے کتنی زندگیاں تباہ وبر باد ہوگئییں ہیں بچے بگڑ چکے ہیں. میاں بیوی میں طلاق کی نوبت تک ہہونچ گئی ہے.روزمرہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کی لوگ موبائیل پر دو گھنٹہ تین چار گھنٹہ لگے رہتے ہیں . بیوی موبائیل پر لگی ہے شوہر تھکا ہارا گھر آتا ہے اور خود اسے ہی کھانا نکال کر کھانا پڑتا ہے لیکن بیوی کہتی ہے ‘کی گیم کھیل رہی ہوں.سئییریل دیکھ رہی ہوں. جبکہ وہ کسی غیر محرم سے چیٹنگ پہ لگی ہے.

عشق ومعاشقہ کی باتیں ہوتی ہیں ہیجان برپا کرنے والے ویڈیوز کا تبادلہ بھی ہوتا ہے.ویڈیو ز کال پر باتیں ہوتی ہیں. نوجوان لڑکے لڑکیاں کمسن بچے بچیاں اس "مہلک بیماری” میں لت پت ہیں.ہمارا حال یہ ہے کی ہم خود منفی کاموں میں ڈوبے ہیں اور موبائیل جیسے فتنے میں مبتلاء ہیں گھر، بازار، مسجد، راستہ، قبرستان ہر جگہ موبائیل کا دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں.نہ کسی کا ادب نہ احترام نہ مسجد کا احترام نہ قبرستان کا نہ اللہ کا ڈر وخوف. ہمارا دل اتنا سخت ہوگیا ہے کی قبرستانوں ہر بھی بے خوف ہوکر بات کرتے ہیں. موبائیل فون چالس سال قبل مارٹن کوپر (Martin Cooper) نے ایجاد کیا تھا موٹرو لا کمپنی میں انجنئییر تھا.

مارٹن کوپر نے امریکہ کے ایک جگہ سے کا ل کر کے سب کو( اپنے ساتھیوں کو) حیرت زدہ کر دیا تھا بغیر تار کے ایک ایسا آلہ تیار کر کے بات کرنا کسی عجوبے سے کم نہیں تھا کوئی یقین نہیں کر رہا تھا.موبائیل فون بیسویں صدی کا سب سے حیرت انگیز ایجاد ہے. موبائیل (Mobile)کو سیل فون(Cell Phone) بھی کہا جاتا ہے.آج دنیا میں پانچ ارب سے زیادہ لوگ موبائیل فون استعمال کرتے ہیں اور ان گنت کالس بھی آتے جاتے ہیں جن کا اعداد وشمار کرنا مشکل ہے.موبائیل فون اگر منفی طور پر استعمال کیا جائیے تو فحاشی عریانیت بے حیائی برائی موجودہ دو ر کا سب سے بڑا سماجی برائییوں کا ہتھیار ہے.

سماج کے جوان لڑکے لڑکیاں بےراہ روی کے شکار ہوکرگندگی وغلاظت میں مبتلاء ہیں ان برائییوں کے اسباب پر غور وفکر کیا جائیے تو اس کا سب سے بڑا سبب موبائیل کا غلط استعمال ہے.موبائیل اتصال کا ذریعہ مانا جاتاتھا. لوگ ایک دوسرے کی خیرت مزاج پرسی کے لئییے استعمال میں لاتے تھے لیکن اب موبائیل کے ذریعہ بہت سارے امور انجام دئییے جا سکتے ہیں اور دئیے بھی جارہے ہیں.آج موبائیل نے لوگوں کی حیاء شرم غیرت عزت واحترام سب ختم کر دیا ہےموبائیل کے غلط استعمال نے شہروں قصبوں کے علاوہ دیہاتوں کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے.اور نوجوان لڑکے لڑکیاں بےراہ روی کے شکار بھی ہیں.

انسانی معاشرہ تباہی کی طرف گامزن ہےجدید انکشافات وایجادات نے انسانی سماج میں ایسا اثر ڈا لاہے جس کا تصور پہلے نہیں تھا.مواصلات کے شعبے میں انقلابی پیش رفت نے جہاں زندگی کے لئییے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں ایسے مسائیل کو جنم دیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے.آج انٹرنیٹ ہر امیر غریب کےدسترس میں ہے.فحش اور عریاں فلموں کی انٹر نیٹ پر بہار آگئی ہے. بٹن دباتے ہی سب کچھ سامنے آجاتا ہے.اس سے نوجوان لڑکو ں لڑکیوں کے اندرزبردست بگاڑ پیدا ہو رہا ہے.

فلمیں دیکھنے کے بعد نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے جذبات میں ہیجان پیدا ہوتا ہے.فحش تصویریں انٹرنیٹ (Internet)پر بھی سامان موجود ہیں.سوشل میڈیا کی بے شمار ویب سائیٹس (Web sites) کھلے ہیں جنسی بے راہروی کی کھلے عام دعوت دیتے ہیں. اور اس کے جال میں کمسن بچے بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پھنس کر تباہ وبرباد ہو رہی ہیں.یہاں تک کی ایمان وعقیدے خطرے میں پڑ گئیے ہیں.مسلم معاشرے میں بھی یہ وبائی شکل اختیار کر گئی ہے کی لڑکے لڑکیاں انٹر نٹ اور فون دھڑلے سے استعمال کرتی ہیں.

گھنٹوں گندی فلموں سے لطف اندوز ہوکرسوشل ویب سائییٹس (Social web sites) کے ذریعہ کسی بھوکے جنسی درندے سے محو گفتگو ہوکر جنسی جذبات کی تسکین بنتی ہیں. کبھی کبھی وہ جنسی ہیجان اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے کی یہ لڑکیاں ایسا قدم اٹھا لیتی ہیں کہ اہل خانہ خاندان معاشرے کی جگ ہنسائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں.باقاعدہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بہت سی مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے عشق میں گرفتار ہوکر دین ومذہب سے بیگانہ ہو جاتی ہیں اور ان سے شادی بھی کر لیتی ہیں. دیہاتوں میں بھی اس کا چلن عام ہے. ان پڑھ گنوار لڑکیاں بھی انٹر نیٹ اور دوسرے ایپس(Apps) کی مکمل معلومات رکھتی ہیں.گھر کا سم کارڈ چینج کر کے دوسرے سم کارڈ سے بات کرتی ہیں. اور پھر گفتگو ختم ہونے کے بعد دوسرا سم لگادیتی ہیں .بچے گیم کھلینے میں دیوانہ ہوجاتے ہیں.

لوڈو،کیرم،چیس(Ludo.Chess.Carrom)ان گیمس میں کمسن معصوم بچے عادی ہو کر اہنی معصومیت کھو رہے ہیں پڑھائی لکھائی سے عدم دلچسپی بڑھتی جارہی ہے. موبائیل کا دوسرا پہلو بھی ہے آج کے دور کا حیرت انگیز مفید وانقلابی دریافت ہے اس کے بے شمار فوائید بھی ہیں زمان ومکان کے سارے فاصلے ختم ہوچکے ہیں جیسے دنیا کی تمام چیژیں سمٹ گئی ہیں.ہم آنا فانا دنیا کے کسی گوشے کو دیکھ سکتے ہیں وہاں کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں. رابطے آسان بن چکے ہیں اس کاصحیح استعمال بنی نوع انسان کامستقبل روشن کر سکتا ہے اور غلط استعمال سے پوری انسانیت کو تباہی وبربادی کے غار میں ڈھکیل سکتا ہے.

موبائیل کااستعمال اگر مثبت طور پر کریں تو بہت سے فوائید ہیں .منی ٹرانسفر .اولا کیبس گاڑیاں بک کر کے اپنے منزل مقصود تک پہونچا جا سکتا ہے.گھڑی. کیکولیٹر کلینڈر موسم کاحال معلوم کیا جاسکتا ہے اخبارات رسائیل وجرائید پڑھے جا سکتے ہیں. اور لاکھوں کتابیں موجود ہیں لابریریاں بھی اپلوڈ ہیں ہر موضوع پر کتابیں دستیاب ہیں ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے.موبائیل حیرت انگیز ایجاد ہے اگر مثبت استعمال کیا جائیے تو بھر پور فائیدہ اٹھا یا جا سکتا ہے.

بہت ساری معلومات فراہم ہو سکتی ہیں. موبائیل کو پرائییویسی کے لئییے لاک رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھار بہت ہی خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے. موبائیل پاس ورڈ سے کافی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتاہے..” موبائیل پاس ورڈایک حاملہ خاتون سیڑھیوں سے گری اور گرتے ہی بےہوش ہو گئیی. اس وقت گھر میں اس کی دس سالہ بیٹی کے سوا کوئیی بھی نہیں تھا. بچی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے. پھر اس نے اپنی امی کا موبائیل اٹھایا. تاکہ ابو کو کال کرے. لیکن موبائیل پہ پاسورڈ لگا ہوا تھا.

بچی کچھ نہ کر سکی. بالآخر ماں اپنی زندگی سے ہار گئیی. اسی طرح تین دوستوں کو دوران سفر کار حادثہ پیش آیا۔ایک اجنبی نے سارا معاملہ دیکھا. اور وہ ان کی مدد کرنا چاہتا تھا۔مگر اس کے پاس کوئیی موبائیل فون نہیں تھا۔جس کار کو حادثہ پیش آیا. اس میں چھ موبائیل تھے. مگر ہر ایک کے موبائیل پہ پاس ورڈ لگا ہوا تھا. نتیجتاً وہ بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے. غلطی کس کی ہے؟ آپ اپنی معلومات کے بارے میں بہت حساس ہیں. جبھی موبائیل پہ پاس ورڈ لگاتے ہیں.

یہ اچھی بات ہے. پاس ورڈ ضـــــرور لگائییں. لیکـــــــن صرف واٹس ایپ، پیغامات، فیس بک اور دوسری اہم فائییلز پر ہی لگائییں.صرف کال کرنے والے آپشن کو کھلا چھوڑ دیں. ہو سکتا ہے. کہ آپ ایک دن اپنی یا اپنے کسی چاہنے والے کی زندگی بچا سکیں . آپ کے موبائیل کا پاس ورڈ آپ کے لیے موت کا پیغام بھی ہو سکتا ہے”. منقول. چند مفید مشورے والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں. اس فتنے سے روکا جا سکتا ہے. اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں مدد کی جاسکتی ہے.بچوں کو موبائیل کا چسکہ لگانے سے گریز کریں اور انہیں اس کاعادی نہ بنائییں.نوجوان لڑکے لڑکیوں کے فون چیک کیا کریں اور تنبیہ کریں.موبائیل کے غلط استعمال کے نقصانات کے بارے میں آگاہ بھی کریں خاص طور سے لڑکیاں جب تنہائی میں ہوکر موبائیل استعمال کریں تو والدین ان پر دھیان دیں تعلیم کے نام پر بہت سی لڑکیا ں والدین کو دھوکے میں رکھ کر پوری رات یارات دیر تک چیٹنگ کرتی ہیں. یہ گھر کے لئیے معاشرے کے لئییے مہلک ہے .موبائیل فون کے غلط استعمال سے مفاسد برائییاں جنم لیتی ہیں جو مہذب معاشرہ کے لئییے انتہائی تباہ کن ہے.

مضمون نگار:المصباح ممبئی کے ایڈیٹر ہیں.

متعلقہ خبریں

Back to top button