بین ریاستی خبریں

موبائل فون ٹارچ سے ڈلیوری، سرکاری اسپتال میں خاتون کی موت

ماں کی موت نے صحت نظام پر سوال کھڑے کر دیے

امرتسر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پنجاب میں صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے دعوے ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں آ گئے ہیں، جہاں ضلع گورداسپور کے قادیان واقع سرکاری سول اسپتال میں مبینہ طبی لاپرواہی کے باعث ایک خاتون کی جان چلی گئی۔ متوفیہ روپندر کور کو یکم جنوری کو ڈلیوری کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

اہل خانہ کے مطابق دورانِ آپریشن اچانک آپریٹنگ تھیٹر کی بجلی منقطع ہو گئی، جبکہ اسپتال میں نہ تو جنریٹر موجود تھا اور نہ ہی کوئی متبادل انتظام۔ الزام ہے کہ ڈاکٹروں نے مجبوراً موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں ڈلیوری کرائی، جس کے نتیجے میں خاتون کو شدید انفیکشن لاحق ہو گیا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ ڈلیوری کے بعد بھی خاتون کی حالت مسلسل بگڑتی رہی، مگر اسپتال انتظامیہ صورتِ حال کو چھپاتی رہی اور صرف گلوکوز لگا کر معاملہ ٹالتی رہی۔ جب حالت انتہائی خراب ہو گئی تو خاتون کو اعلیٰ طبی مرکز ریفر کیا گیا، تاہم امرتسر لے جاتے وقت راستے میں ہی اس کی موت ہو گئی۔

واقعے کے بعد اہل خانہ نے خاتون کی نعش بٹالہ کے گاندھی چوک پر رکھ کر زبردست احتجاج کیا اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، تدفین نہیں کی جائے گی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ برس پٹیالہ کے راجندرا اسپتال میں کینسر کے مریض کے آپریشن کے دوران بجلی چلی گئی تھی، جس سے وینٹی لیٹر بھی بند ہو گیا تھا۔ اس سنگین واقعے پر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور بجلی فراہم کرنے والے ادارے سے وضاحت طلب کی تھی۔

عدالت نے واضح کیا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی بجلی نظام کی ناکامی انسانی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، مگر اس کے باوجود زمینی سطح پر کوئی مؤثر بہتری نظر نہیں آ رہی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کس طرح انسانی جانوں کی قیمت پر پوری ہو رہی ہے، اور سوال یہ ہے کہ آخر کب ذمہ داری طے ہوگی؟

متعلقہ خبریں

Back to top button