نئی دہلی، 7 ستمبر : (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کابینہ کی میٹنگ بدھ کو وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوگی۔ اس میٹنگ میں گندم اور دیگر فصلوں پر ایم ایس پی بڑھانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ پی ایم مودی کی رہائش گاہ پر ہونے والی اس میٹنگ میں ٹیلی کام اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے ریلیف پیکج دینے کا بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع نے یہ معلومات دی ہیں۔بتادیں کہ دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا مظاہرہ 9 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
یہی نہیں کسانوں کی تنظیموں نے حالیہ دنوں میں اپنی تحریک کو تیز کر دیا ہے۔ آج ہی کسان تنظیموں نے ہریانہ کے کرنال میں مہا پنچایت کے بعد منی سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کیا۔اس کے بعد بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے لیڈرراکیش ٹکیت نے ٹویٹ کیا اور کہاکہ ہم کسان ساتھیوں سمیت چھوٹے سکریٹریٹ کرنال پہنچ گئے ہیں، پولیس نے انہیں یقینی طور پر اپنی تحویل میں لیا تھا لیکن نوجوانوں کے جوش کے سامنے، پولیس مجھے رہا کرنا پڑا میں اپنے ساتھ سیکرٹریٹ میں موجود ہوں، لڑائی جاری رہے گی۔
حال ہی میں اترپردیش کے مظفر نگر میں ایک مہا پنچایت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس دوران کسان لیڈران نے حکمراں بی جے پی کے خلاف سخت بیانات دئے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں زرعی قوانین واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ بی جے پی کے خلاف مزید بڑے جلسوں کا اہتمام کریں گے۔



