قومی خبریں

مودی نے ایک لاکھ کروڑ قرض لیا ہے، ہر ہندوستانی پر گیارہ لاکھ کا قرض

65 سالوں میں 55 لاکھ کروڑ کا قرض اور 9 سال میں ایک لاکھ کروڑ ، جملہ قرض 1,52,17,910 ، واہ رے اچھے دن

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کیا آپ جانتے ہیں مرکزی حکومت پلک جھپکنے تک 3.38 لاکھ روپے اور چائے پینے کے وقت تک 2 کروڑ روپے کا قرض حاصل کررہی ہے جس کے ذریعہ ملک لمحہ بہ لمحہ قرضوں میں ڈوبتا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ 31 مارچ 2014 تک ملک کا قرض 55.87 لاکھ کروڑ روپے تھا جو اس سال کی اواخر تک 152.17 لاکھ کروڑ تک پہنچ گیا جس کا خود مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گزشتہ 9 سال کے دوران مودی حکومت نے 96 لاکھ کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا ہے۔ ملک کی آزادی کے 65 سال میں جو قرض حاصل کیا گیا تھا بی جے پی کے زیر قیادت مرکزی حکومت نے اس کو صرف 9 سال میں دوگنا کردیا ہے۔ اس سے ملککے ہر شہری کافی کس قرض دوگنا ہوگیا ہے۔ 2014 تک ملک کی آبادی 129 کروڑ کے لگ بھگ تھی۔

اس حساب سے فی کس قرض تقریباً 4.34 لاکھ روپے تھا۔ اب ملک کی آبادی بڑھ کر 140 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جس سے ہر شہری پر 11 لاکھ روپے قرض کا بوجھ عائد ہوگیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ’’ڈبل انجن والی حکومت‘‘ بری حالت میں ہے۔ آمدنی کو دوگنا کرنے میں ناکام مودی حکومت نے ملک کے قرض کو تین گنا اور فی کس قرض کو ڈھائی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس طرح مرکزی حکومت فی سکنڈ 3,48,334 لاکھ ہر منٹ 2 کروڑ اور ہر گھنٹہ 122 کروڑ اور ہر دن 2931 کروڑ، ہر سال 10,70,084 کروڑ اور 9 سال میں 96,30,761 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا ہے۔

جب تک قارئین یہ خبر پڑھیں گے تب تک ملک پر مزید 4 تا 8 کروڑ روپے قرض کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ ایک طرف مرکزی حکومت لاکھوں کروڑ روپے کا قرض حاصل کررہی ہے۔ دوسری طرف سرکاری شعبوں کے اداروں کو فروخت کررہی ہے۔ باوجود اس کے سرکاری خزانہ خالی ہے اور 9 سال کے دوران کوئی اثاثہ جات پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ غریب عوام کو فراہم کئے جانے والے سبسیڈی کو دن بہ دن گھٹا دیا جارہا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے باوجود سرکاری خزانہ کو بھرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button