بالی ووڈ کے عظیم مزاحیہ اداکار مکری: چھوٹے قد، دبی مسکراہٹ اور منفرد مکالموں کے مالک
سلام بن عثمان
ابتدائی تعارف
چہرہ پہ دبی مسکراہٹ کے مالک، مکالمہ کا منفرد انداز، چھوٹا قد، زبردست مزاحیہ اداکار محمد عمر مکری المعروف مکری۔
40 کے دہائی کا مزاحیہ چہرہ
40 کے دہائی میں کئی مزاحیہ اداکاروں نے بالی ووڈ میں اپنی شہرت کے ذریعے شناخت بنا چکے تھے۔ جن میں جانی واکر، آغا، رشید خان، دھمال کے علاوہ دیگر اداکار شامل تھے۔ انہی میں ایک نام محمد عمر مکری کا بھی ہے جو اپنے منفرد انداز کے باعث سرِفہرست رہے۔
مکری کا پس منظر
مکری January 5, 1922 کو خطئہ کوکن کے علی باغ شہر میں ایک کوکنی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے پانچ بچوں میں دو بیٹیاں (نسیم مکری، آمنہ مکری) اور تین بیٹے (ناصر، فاروق، بلال) شامل تھے۔ فلمی ماحول کے باوجود گھر روایتی اقدار پر قائم تھا، لیکن فلمی اثرات بہرحال موجود رہے۔ ان کی بیٹی نسیم مکری نے بالی ووڈ میں کئی فلموں کے مکالمے لکھے جن میں "دھڑکن” اور "میں نے بھی پیار کیا” قابلِ ذکر ہیں۔
دینیات سے فلمی دنیا تک
مکری نے اپنے ابتدائی کیریئر کا آغاز ایک عربی مدرسے میں بطور مدرس کیا، جہاں وہ بچوں کو دینی تعلیم دیتے تھے۔
دلیپ کمار سے ملاقات
ایک دن ان کی ملاقات دلیپ کمار سے ہوئی، جو ان کے اسکولی دوست بھی تھے۔ دلیپ صاحب نے انہیں فلمی دنیا میں کام دلانے کی پیشکش کی۔ دیویکارانی (بمبے ٹاکیز کی مالکن) کی سفارش پر مکری کو بمبے ٹاکیز میں اسسٹنٹ کلرک کی نوکری ملی، لیکن جلد ہی فلمی دنیا نے ان پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ کامیڈی اداکار کے طور پر سامنے آئے۔
فلمی سفر کی شروعات
پہلی فلم: پریتما (۱۹۴۵)
دلیپ کمار کے ساتھ فلم پریتما (۱۹۴۵) میں مکری نے اپنی پہلی اداکاری کی۔ ان کی کارکردگی کو سراہا گیا اور وہ فلمی دنیا میں مقبول ہونے لگے۔
کامیڈی میں منفرد پہچان
مکری نے اپنے 50 سالہ فلمی کیریئر میں 600 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی دبی مسکراہٹ، چھوٹا قد، اور مکالمے کی ادائیگی کی پرفیکٹ ٹائمنگ ان کی پہچان بن گئی۔
یادگار فلمیں اور کردار
مدر انڈیا، کوہ نور، آن، فقیرہ، بمبے ٹو گوا، امر اکبر انتھونی، لاوارث، شرابی جیسی فلموں میں ان کی مزاحیہ اداکاری نے فلموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
مشہور ڈائیلاگ اور ٹائمنگ
فلم شرابی (۱۹۸۴) میں امیتابھ بچن کا مکری کے حوالے سے ڈائیلاگ:
“مونچھیں ہو تو نتھولال جیسی!”
فلم نصیب (۱۹۸۱) میں محبوب بھائی کا کردار بھی شاندار رہا۔
دلیپ کمار سے امیتابھ بچن تک
مکری نے دلیپ کمار کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا، اور بعد میں امیتابھ بچن کے ساتھ بھی کئی مشہور فلموں میں جلوہ گر ہوئے، جیسے:
-
بمبے ٹو گوا
-
امر اکبر انتھونی
-
گنگا کی سوگندھ
-
نصیب
-
مہان
-
قلی
-
شرابی
-
جادوگر
فلمی انداز کی مستقل مزاجی
نئے اداکار آتے گئے، لیکن مکری نے اپنا مخصوص انداز کبھی نہ بدلا۔ ان کی صاف ستھری مزاحیہ اداکاری ہمیشہ ناظرین کو ہنسانے میں کامیاب رہی۔
بطور گلوکار
پہلا نغمہ (فلم: پریتما ۱۹۴۵)
“ٹھمک ٹھمک میرے انگنا آو جی آو جی”
(کوریوگرافی: ممتاز علی)
دوسرا نغمہ (فلم: ہیرا ۱۹۷۳)
کشور کمار کے ساتھ:
“ایک چھوکریا بیچ بجریا ہم سے آنکھ ملائے”
فلمی دنیا سے کنارہ کشی
عمر بڑھنے کے ساتھ مکری نے فلموں سے فاصلہ اختیار کیا۔ ایکتا کپور نے ٹی وی شو کا آفر دیا، مگر انہوں نے معذرت کرلی۔ ان کا کہنا تھا:
“اگر زندگی نے وفا نہ کی تو ایکتا بیٹی کا نقصان ہوگا۔”
اعزازات کا فقدان
اگرچہ مکری نے درجنوں یادگار فلموں میں بہترین اداکاری کی، مگر افسوس کہ انہیں کسی بڑے فلمی ایوارڈ سے نہیں نوازا گیا۔ یہ بالی ووڈ کا ایک خلاء ہے۔
انتقال اور یادگار
4 ستمبر 2000 کو ۷۸ سال کی عمر میں لیلا وتی اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے مداح انہیں ان کی مزاحیہ اداکاری، دبی مسکراہٹ، اور بے مثال ٹائمنگ کے لیے یاد رکھتے ہیں۔


