بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش میں انتخابات کے اعلان کے بعد محمد یونس کو نئی سیاسی اور انتظامی مشکلات کا سامنا

عام انتخابات اپریل 2026 کے آغاز میں منعقد کیے جائیں گے۔

ڈھاکہ، ۹؍ جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے اعلان کیا ہے کہ عام انتخابات اپریل 2026 کے آغاز میں منعقد کیے جائیں گے۔ تاہم، یہ اعلان سیاسی جماعتوں میں اختلافات اور شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔
سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ بی این پی کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتیں بھی خدشات کا اظہار کر رہی ہیں کہ عبوری حکومت نے انتخابی تاریخ کا فیصلہ کرتے وقت سیاسی اتفاق رائے کو نظر انداز کیا۔

پروفیسر یونس نے دعویٰ کیا کہ وہ تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ تاریخ کے شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اعلان کافی نہیں، بلکہ سب سے بڑا چیلنج تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا اور انتخابی عمل کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا ہے۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کی پروفیسر زبیدہ نسرین نے کہا کہ حکومت کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنی ہوگی، ورنہ بی این پی اور دیگر جماعتوں کا اعتماد بحال ہونا مشکل ہے۔ ادھر جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہو سکتی ہے۔

پروفیسر سیف العالم چوہدری کے مطابق حکومت نے ابھی تک امن و امان کی صورتحال پر قابو نہیں پایا اور انتخابی فہرستوں کی تیاری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے بقول، اصلاحاتی پروگراموں کی کامیابی، انسانی حقوق کے مقدمات اور غیر متنازع حلقہ بندیوں پر پیش رفت اگلے 10 ماہ کے لیے اہم چیلنج ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے گوین لیوس کے مطابق، جامع انتخابات صرف جماعتوں کی شرکت نہیں بلکہ ہر ووٹر کی آزادی کو یقینی بنانے سے مشروط ہیں۔ تاہم عوامی لیگ پر انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ عوامی لیگ جیسے بڑے گروپ کو انتخابی عمل سے باہر رکھ کر شفاف انتخابات ممکن بھی ہیں یا نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر بی این پی یا عوامی لیگ کو باہر رکھا گیا تو انتخابات کی شفافیت پر عالمی اور عوامی اعتماد مشکل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button