نئی دہلی، ۶؍ اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کی اہلیہ پونم جین کو عبوری ضمانت دے دی ہے۔ عبوری ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ تفتیش کے دوران انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس دوران وزیر ستیندر جین نے بھی اپنی عبوری ضمانت کی عرضی واپس لے لی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت کی درخواست کی تھی۔
ان کے وکیل نے کہا کہ وہ آج ہسپتال سے ڈسچارج ہو رہے ہیں اور عبوری ضمانت کی درخواست واپس دینا چاہتے ہیں۔بتا دیں کہ پونم جین گزشتہ ماہ ای ڈی کے سامنے پیش ہوئی تھیں، جہاں ان سے منی لانڈرنگ کیس میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ ای ڈی نے اسی معاملہ میں پونم کے شوہر ستیندر جین کو 30 مئی کو گرفتار کیا تھا۔ ای ڈی نے ستیندر جین اور دیگر کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات سے معلومات حاصل کرنے کے دوران پونم کو حاضر ہونے کو کہا تھا۔
ای ڈی حکام کے مطابق پونم جین کو ای ڈی ہیڈکوارٹر میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا جبکہ اس معاملے میں چھاپوں کے دوران پہلے ضبط کیے گئے آلات سے معلومات حاصل کی گئی تھیں۔ستیندر جین (57) کو ای ڈی نے 30 مئی کو منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی مجرمانہ دفعات کے تحت گرفتار کیا تھا اور وہ عدالتی حراست میں ہیں۔
وہ دہلی میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت میں وزیر ہیں اور فی الحال ان کے پاس کوئی قلمدان نہیں ہے۔ جین کے پاس صحت، بجلی اور دیگر محکمے تھے۔ایجنسی نے وزیر کے خاندان اور ساتھیوں پر کم از کم دو چھاپے مارے تھے اور انہیں مبینہ طور پر حوالات کے لین دین سے متعلق ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ ای ڈی نے اس ماہ ان کے دو کاروباری ساتھیوں کو گرفتار کیا تھا۔ ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ستیندر جین کے کنبہ اور دیگر پر 6 جون کو چھاپے مار کر 2.85 کروڑ روپئے نقد اور 133 سونے کے سکے ضبط کئے ہیں۔



