سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

منکی پوکس اس مرض کی علامات کیا ہیں اور علاج کیسے ممکن؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ افریقہ کے باہر منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے اور عام طور پر افریقہ میں اس کے متاثرین کی تشخیص نہیں کی جاتی۔ برطانیہ میں اب تک منکی پوکس کے 56 متاثرین سامنے آئے ہیں۔اب تک منکی پوکس کے 100 سے زیادہ متاثرین سامنے آچکے ہیں جن کی جلد پر دانے نکلتے ہیں اور انھیں بخار کی شکایت ہوتی ہے۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں اس کے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ماہرین کو ڈر ہے کہ اس کے متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن وسیع پیمانے پر آبادی کو درپیش خطرہ کم بتایا گیا ہے۔

منکی پوکس کا علاج کیا ہے؟

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ ایک نایاب وائرل انفیکشن ہے جو اثرات کے اعتبار سے عام طور پر ہلکا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تر لوگ چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔وائرس لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا اور اس لیے اس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بہت کم بتایا جاتا ہے۔منکی پوکس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین موجود نہیں ہے، لیکن چیچک کا ٹیکہ 85 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ دونوں وائرس کافی ایک جیسے ہیں۔

منکی پوکس کتنا عام ہے؟

یہ بیماری منکی پوکس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو چیچک جیسے وائرس کی شاخ میں سے ہے۔یہ زیادہ تر وسطی اور مغربی افریقی ممالک کے دور دراز علاقوں میں، ٹراپیکل بارش کے جنگلات کے قریب پایا جاتا ہے۔اس وائرس کی دو اہم اقسام، مغربی افریقی اور وسطی افریقی ہیں۔برطانیہ میں متاثرہ مریضوں میں سے دو نے نائجیریا سے سفر کیا تھا، اس لیے امکان ہے کہ وہ مغربی افریقی قسم کے وائرس کا شکار ہیں، جو کا اثر عام طور پر ہلکا ہوتا ہے لیکن یہ ابھی تک غیر مصدقہ ہے۔

ایک اور معاملہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکن میں سامنے آیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں کسی مریض سے یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔مزید حالیہ معاملات کے ایک دوسرے کے ساتھ کوئی معلوم روابط یا سفر کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ برطانیہ میں کمیونٹی میں پھیلنے سے ہوا ہے۔برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی اگر اندیشہ ہو کہ وہ متاثر ہوئے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ کسی ماہر صحت سے ملیں۔

علامات کیا ہیں؟

ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، سوجن، کمر میں درد، پٹھوں میں درد اور عام طور کسی بھی چیز کا دل نہ چاہنا شامل ہیں۔ایک بار جب بخار جاتا رہتا ہے تو جسم پر دانے آ سکتے ہیں جو اکثر چہرے پر شروع ہوتے ہیں، پھر جسم کے دوسرے حصوں، عام طور پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے تک پھیل جاتے ہیں۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

جب کوئی متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوتا ہے تو اس میں منکی پوکس پھیل سکتا ہے۔ یہ وائرس ٹوٹی اور پھٹی ہوئی جلد، سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔اسے پہلے جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کے طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا، لیکن یہ جنسی تعلقات کے دوران براہ راست رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے۔یہ بندروں، چوہوں اور گلہریوں جیسے متاثرہ جانوروں کے رابطے میں آنے سے بھی پھیل سکتا ہے یا وائرس سے آلودہ اشیاء، جیسے بستر اور کپڑوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔

اس کا علاج کیا ہے؟

منکی پوکس کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن انفیکشن کی روک تھام کے ذریعے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔چیچک سے بچاؤ کی ویکسینیں 85 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔برطانیہ نے چیچک کی ویکسین کی خوراک خریدی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ٹیکے دیے جا سکتے ہیں۔اینٹی وائرل ادویات بھی اس کے علاج میں مدد کر سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button