بین الاقوامی خبریں

امریکہ میں نوکریاں زیادہ اور امیدوار کم، وجہ کیا ہے؟

واشنگٹن، 5جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرونا وبا کی بندشوں کے بعد معاشی سرگرمیوں کی بحالی سے امریکہ میں روزگار کے مواقعوں کی بہتات ہے لیکن شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ بے روزگار افراد ملازمت کے حصول کے لیے پہلے جیسی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔کئی ایسے افراد جو برسرِ روزگار نہیں وہ بھی پہلے سے زیادہ تنخواہوں کے خواہش مند ہیں یا کرونا وبا سے متاثر ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر عوامی خدمات کی کمپنیوں میں کام کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

یہ دونوں رجحانات کس طرح ایک دوسرے کو متوازن کرتے ہیں، ا?ئندہ مہینوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں سے اس کی رفتار کا تعین ہوگا۔رواں برس جون میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح مئی کے مقابلے میں کم ہونے کی توقع کی جارہی تھی۔ مئی میں یہ شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فی صد تھی جب کہ جون میں یہ پانچ اعشاریہ سات فی صدر رہی۔

لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں #امریکہ میں #ملازمت کے لیے خالی آسامیوں کی تعداد 93 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو کہ گزشتہ بیس برسوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ایمپلائمنٹ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ #ملازمتوں کے اعلانات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ #ملازمین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خاص طور پر ریستورانوں، سیاحتی اور تفریحی مقامات کے آجروں کے مابین مقابلہ بڑھتا جارہا ہے۔

آجر زائد اجرتوں اور بونس سمیت دیگر مراعات کے ساتھ اوقاتِ کار میں بھی سہولت کی پیش کش کر رہے ہیں۔گزشتہ برس کے دوران بونس کے وعدوں کے ساتھ دی جانی والے #ملازمتوں کے #اشتہارات میں اضافہ ہوا ہے۔ملازمتوں کے لیے امیدواروں کی عدم دلچسپی کے مختلف اسباب ہیں۔ کئی امریکیوں کو پرہجوم مقامات پر کام کرنے میں صحت سے متعلق تحفظات لاحق ہیں۔

تقریباً 15 لاکھ افراد جن میں #خواتین کی اکثریت ہے، صرف اس لیے ملازمت نہیں کر رہے یا اس کی تلاش میں نہیں کہ انہیں گھر پر رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے کیوں کہ وبا کے باعث #اسکول اور ڈے کیئر سینٹرز بند پڑے ہیں۔دوسری جانب اندازاً 26 لاکھ زیادہ عمر کے ورکرز ہیں۔ جنھوں نے اسٹاک میں منافع اور گھروں کی بڑھتی قیمتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔

مرکزی حکومت عارضی طور پر بے روزگاروں کو ہفتہ وار 300 ڈالر دے رہی ہے۔ ریاستوں کی جانب سے بے روزگاروں کی الگ سے مالی مدد کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ملازمت کا انتخاب کرتے ہوئے زیادہ چھان پھٹک کرنے لگے ہیں۔امریکہ کی نصف سے زائد ریاستیں جولائی کے اختتام تک بے روزگاروں کو دی جانے والی مالی مدد کا سلسلہ ختم کررہی ہیں۔ اس اقدام کے حامی اسے بے روزگاروں کو تلاشِ روزگار پر آمادہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

حکومت کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے بے روزگاری کے لیے مالی مدد کے لیے رجوع کرنے والوں کی تعداد تین لاکھ 64 ہزار رہی جو وبا کے آغاز سے لے کر اب تک کی سب سے کم تعداد ہے۔اپریل میں امریکیوں کی ملازمت چھوڑنے کی شرح گزشتہ بیس برس میں سب سے زیاد رہی ہے۔

ریستوارنوں، ہوٹلوں، کیسینو اور امیوزمنٹ پارکس وغیرہ میں ملازمت کرنے والے چھ فیصد افراد نے اپریل میں نوکریوں کو خیرباد کہا۔ دیگر شعبوں کے مقابلے میں ملازمت چھوڑنے والوں کی یہ شرح دگنی ہے۔زائد اجرت کے لیے ملازمت چھوڑنے والوں کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے آجروں کو بھی عملے کی تعداد مطلوبہ حد تک برقرار رکھنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button