یوپی کے13 ہزارسے زائد غیر قانونی دینی مدارس پر لٹک سکتے ہیں تالے
یوپی غیر قانونی مدارس کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ یوپی حکومت کو سونپ دی
لکھنؤ ،7مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اترپردیش میں غیر قانونی مدارس کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ یوپی حکومت کو سونپ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں 13 ہزار کے قریب غیر منظور شدہ مدارس کو بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی کی جانچ اور سفارش کے بعد مدرسہ بورڈ ان ہزاروں مدارس کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایس آئی ٹی کی جانچ میں جن مدارس کو بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر ہندوستان نیپال سرحد پر ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر مدارس گزشتہ 20 سالوں میں خلیجی ممالک سے ملنے والے فنڈز سے بنائے گئے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر غیر قانونی مدارس سات اضلاع میں بنائے گئے ہیں جن میں بہرائچ، شراوستی اور مہاراج گنج ہندوستان-نیپال سرحد پر واقع ہیں۔
نیپال سے متصل ان اضلاع میں مدارس کی تعداد 500 سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب ایس آئی ٹی کی ٹیم نے ان مدارس کے چلانے والوں سے آمدنی اور اخراجات کے بارے میں معلومات مانگی تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ ایسے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مبینہ دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی رقوم خلیجی ممالک سے حوالہ کے ذریعے بھیجی گئی تھیں۔ مدارس چلانے والوں نے اعتراف کیا کہ مدارس عطیات کی مدد سے بنائے گئے تھے، حالانکہ وہ عطیہ دینے والوں کے بارے میں کوئی جواب نہیں دے سکے۔ذرائع کے مطابق اتنا ہی نہیں ایس آئی ٹی کی جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان غیر قانونی مدارس میں بچوں کا جسمانی استحصال بھی کیا جاتا ہے۔
دراصل ایسی اطلاعات پہلے بھی آرہی تھیں کہ ان مدارس کی پہچان تک نہیں ہے۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ کل 23 ہزار مدارس میں سے صرف پانچ ہزار کی عارضی شناخت ہے۔ بعض مدارس سند کے حصول کے لیے درکار شرائط بھی پوری نہیں کر سکے۔ یہی نہیں اکثر مدارس نے اپنی شناخت کی تجدید بھی نہیں کروائی اور وہ غیر قانونی طور پر مدرسے کو چلاتے رہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ نیپال سے ملحقہ علاقوں میں 80 مدارس کو خلیجی ممالک سے تقریباً 100 کروڑ روپے کی فنڈنگ کی نہ صرف معلومات بلکہ تصدیق بھی ہوئی تھی۔ اس طرح کی معلومات سامنے آنے کے بعد یوپی کے تمام مدارس کی جانچ ایس آئی ٹی کو سونپنے کے احکامات دیئے گئے۔
ابتدائی تحقیقات میں ایس آئی ٹی نے سرحدی اضلاع میں واقع مدارس میں تقریباً 100 کروڑ روپے کی فنڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔اترپردیش کی یوگی حکومت نے تمام مدارس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اتر پردیش کی یوگی حکومت پہلے ہی ریاست میں چل رہے مدارس کا سروے کر چکی ہے۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ریاست میں 16,513 تسلیم شدہ مدارس ہیں جبکہ 8,500 غیر تسلیم شدہ مدارس بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ الزامات لگائے گئے کہ ان مدارس کو غیر ملکی فنڈنگ مل رہی ہے، جس کا وہ غلط استعمال کر رہے ہیں۔ اس پورے معاملے کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔



