قومی خبریں

ملک میں طالبانی نظام سے زیادہ تشدد، ہندوستان کو ڈرنے کی ضرورت نہیں: منور رانا

نئی دہلی،19اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اردو کے نامور شاعر منور رانا نے افغانستان میں ہونے والی بربریت کا موازنہ ملک میں کی جانے والی گائے کے نام پر مآب #لنچنگ اور جبری جے شری رام کے نعرے لگوائے جانے سے کیا ہے۔ #منور #رانا کا کہنا ہے کہ جس قدر تشدد، بے رحمانہ سلوک طالبانی نظام میں ہے ،اس سے کہیں زیادہ ہمارے وطن عزیز ہندوستان پہلے سے موجود ہے ،اس لئے ہندوستان کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں پہلے رام راج تھا ، اب محض’ کام راج‘ ہے۔

خیال رہے کہ منور رانا اپنے بیان کے بعد سے کئی فسطائی رہنماؤں اورفسطائیت نوازکے نشانے پر آگئے ہیں۔ واضح ہو کہ جب سے افغانستان میں طالبان کی فتح ہوئی ہے ، تب سے کئی لوگ اس فتح پر اپنا رد عمل پیش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا رد عمل بھی کافی متنازعہ ہے۔معروف #شاعر منور رانا بھی اسی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اگر ’رام ‘کے ساتھ ’کام‘ ہے تو ٹھیک ہے ، ورنہ بصورت دیگر یہ محض کاغذی خانہ پری ہے ۔

بی جے پی نے اسے ملک مخالف بیان قرار دیا ہے، خیال رہے کہ ابھی ہندوستانی حکومت نے طالبان کے متعلق اپنے موقف کی وضاحت نہیں کی ہے۔یوپی حکومت کی طرف سے #دیوبند میں اے ٹی ایس کمانڈو سنٹر کھولنے پر منور رانا نے یہ بھی کہا کہ جب تک یوگی ریاست کی وزارتِ علیا پر متمکن ہیں ، وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، لیکن موسم ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک پہلے جیسا ہو،جس کی ہم مثال ہم اپنی شاعری میں پیش کیا کرتے ہیں۔منور رانا نے یہ بھی کہا کہ یوپی میں بھی تھوڑے بہت ’طالبانی‘ ہیں، دہشت گرد کیا صرف مسلمان ہیں، جان لیجئے !ہندو بھی ہوتے ہیں،مہاتما گاندھی سیدھے سادے وضع کے انسان تھے،جبکہ ناتھورام گوڈسے طالبانی تھا۔ یوپی میں بھی طالبان جیسا کام کیا جا رہا ہے۔

اپنے بیانات کی وجہ سے تنازع کا شکار ہونے والے منور رانا نے چند روز قبل ہندوستان کو فرقہ وارانہ ملک کہا تھا،انہوں نے کہا تھا کہ بھارت اب سیکولر ملک نہیں رہا، بلکہ یہ ایک فرقہ وارانہ ملک بن چکا ہے۔ ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button