بین الاقوامی خبریں

مراکش میں پہلی بار خاتون وزیر اعظم مقرر، فاطمہ زہرا المنصوری کو حکومت سازی کی ذمہ داری

مخلوط حکومت کی تشکیل کا چیلنج

رباط، 30 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) مراکش کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ شاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو ملک کی نئی وزیر اعظم مقرر کردیا ہے۔ وہ مراکش کی تاریخ میں اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ تقرری کے بعد انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (PAM) نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ 395 رکنی پارلیمنٹ میں PAM کو 97 نشستیں ملیں، تاہم حکومت بنانے کے لیے 198 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔ اس لیے فاطمہ زہرا المنصوری کو حکومت بنانے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت نے اتحادی حکومت بنانے کے لیے مختلف جماعتوں کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بعض سیاسی گروپ اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا نئی وزیر اعظم کے لیے ابتدائی اہم ذمہ داری ہوگی۔

فاطمہ زہرا المنصوری مراکش کی سیاست میں ایک معروف شخصیت ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ قانون کے شعبے سے وابستہ رہیں اور فرانس سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 2009 میں وہ شہر مراکش کی میئر منتخب ہوئیں اور اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔ اس کامیابی کے بعد ان کا سیاسی سفر مقامی حکومت سے قومی سیاست تک پہنچا۔

2021 کے انتخابات کے بعد فاطمہ زہرا المنصوری ایک مرتبہ پھر شہر مراکش کی میئر منتخب ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی انہیں مرکزی حکومت میں بھی اہم ذمہ داریاں دی گئیں۔ انہوں نے شہری منصوبہ بندی، ہاؤسنگ اور شہری ترقی سے متعلق امور پر کام کیا، جس کے باعث قومی سطح پر بھی ان کی سیاسی شناخت مضبوط ہوئی۔

وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد فاطمہ زہرا المنصوری کو کئی اہم معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہوگا۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، عوام کی آمدنی میں اضافہ، مہنگائی سے متعلق خدشات اور صحت و تعلیم سمیت بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہوں گے۔

مراکش کے لیے 2030 کا فیفا ورلڈ کپ بھی ایک بڑا منصوبہ ہے۔ مراکش اسپین اور پرتگال کے ساتھ مل کر عالمی کپ کی میزبانی کرے گا۔ ایونٹ سے قبل اسٹیڈیمز، سڑکوں، ریلوے اور دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات، رہائش اور شہری انفراسٹرکچر سے متعلق کئی منصوبوں کو مکمل کرنا ہوگا۔ نئی حکومت کو ان منصوبوں کی نگرانی اور بروقت تکمیل کے لیے اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔

فاطمہ زہرا المنصوری کی وزارت عظمیٰ عرب دنیا میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے بھی نمایاں واقعہ ہے۔ تیونس کی نجلا بودن اکتوبر 2021 میں عرب دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنی تھیں اور اگست 2023 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔ فاطمہ زہرا المنصوری اب عرب دنیا میں وزیر اعظم بننے والی دوسری خاتون ہیں۔

نئی وزیر اعظم کے لیے فوری طور پر حکومت سازی سب سے اہم مرحلہ ہوگا۔ پارلیمنٹ میں واضح اکثریت نہ ہونے کے باعث فاطمہ زہرا المنصوری کو مختلف جماعتوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہوگا۔ حکومت بننے کے بعد انہیں معاشی مسائل، روزگار، عوامی خدمات اور 2030 ورلڈ کپ کی تیاریوں جیسے اہم معاملات پر اپنی حکومت کی پالیسیوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button