بین ریاستی خبریں

مساجد کو لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی لینی چاہیے اجازت : مہاراشٹر مسلم تنظیم

ممبئی،20؍اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ان دنوں ملک میں اذان اور آرتی کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا معاملہ گرم ہے۔ اس تنازعہ کے درمیان مہاراشٹر میں جمعیت علمائے ہند نے ریاست کی تمام مساجد کو اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے اجازت لینے کی اپیل کی ہے۔ پیر کے روز مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ نے مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر عدالتی احکامات کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد سے مذہبی مقامات کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے اجازت لینا ضروری ہو گئی ہے۔جمعیت علمائے ہند مہاراشٹر کے سکریٹری گلزار اعظمی نے کہا کہ ریاست کی زیادہ تر مساجد نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے پولیس محکموں سے اجازت لی ہے۔ تاہم میں اب بھی مساجد سے اپیل کرتا ہوں۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ ریاست میں جن لوگوں نے اذان کے لیے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں لی ہے، وہ اجازت لیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پولیس بہت تعاون کرتی ہے۔ اعظمی نے اصرار کیا کہ محکمہ پولیس اس کی اجازت دے رہا ہے۔

اعظمی نے لاؤڈ اسپیکر کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے مہاراشٹر حکومت کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ریاستی حکومت سب کو انصاف دلانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ راج ٹھاکرے کے لاؤڈ اسپیکر پر دئیے گئے بیان سے ریاست میں گزشتہ کچھ دنوں سے سیاست گرم ہے۔

ایم این ایس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ 3 مئی تک مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیں، ایسا نہ کرنے پر کارکنان مساجد کے باہر اسپیکر لگائیں گے اور ہنومان چالیسہ بجائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button