
دبئی ، 5اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ’موساد‘ کے ایجنٹوں نے اسرائیل کے لا پتہ ہواباز رون اراد (Israeli Pilot RON ARAD) کا پتہ چلانے کے لیے گذشتہ ماہ ایک وسیع اور جرات مندانہ آپریشن کیا۔ رون اراد طویل عرصے سے لا پتہ ہے۔رون اراد 1986ء میں اپنے ساتھی ہواباز کے ساتھ ایک مشن پر تھا ،جس کے دوران میں اس کا لڑاکا طیارہ لبنان کی فضاؤں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ ابتدا میں اسے لبنانی تنظیم ’امل موومنٹ‘ کے جنگجوؤں نے قیدی بنا لیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ رون اراد زندہ نہیں رہا اور طیارے کا ہواباز بچا لیا گیا تھا۔پیر کے روز پارلیمنٹ سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ موساد کے مرد اور خواتین ایجنٹوں نے ایک آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد رون اراد کے انجام اور اس کی موجودگی کی جگہ کے حوالے سے نئی معلومات حاصل کرنا ہے۔بینیٹ نے مذکورہ آپریشن کو پیچیدہ ، وسیع اور دلیرانہ قرار دیا۔
Join Urdu Duniya WhatsApp Group.
اس سے قبل اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جاری رپورٹوں میں اس جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ رون اراد 1988میں فوت ہو چکا ہے۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق لبنان میں Syrian Social Nationalist Party میں ایک سابق عسکری ذمے دار نے اپنے بیان میں بتایا کہ اسرائیلی ہواباز (رون اراد) 1988 میں مذکورہ جماعت کی قید میں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ہلاک ہو گیا تھا۔
اسے شمالی لبنان میں المتن ضلع میں دفن کیا گیا۔تاہم دوسری جانب اسرائیلی اخبار دیعوت احرونوت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ہواباز (رون اراد) کو لبنان میں القدس فورس نے قیدی بنایا ، یہ فورس ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ہے۔ مزید برآں اسرائیلی ہواباز کو ایران منتقل کرنے کی خبریں بھی گردش میں آئیں۔



