گھریلو ادویات,صحت میں مفید دس جڑی بوٹیاں
روز میری خون کی نالیوں کی توڑ پھوڑکو روکتی ہے اور اس طرح ہمارے دل پر صحت مند اثرات مرتب کرتی ہے
تازہ جڑی بوٹیاں نہ صرف بغیر کیلوریز کے ذائقے کا باعث بنتی ہیں بلکہ بطور غذا یہ صحت مند اثرات کی حامل بھی ہیں۔ذیل میں ان جڑی بوٹیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جنہیں ہم اپنی غذائی اجزا کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
روز میری: روز میری خون کی نالیوں کی توڑ پھوڑکو روکتی ہے اور اس طرح ہمارے دل پر صحت مند اثرات مرتب کرتی ہے۔دی ڈائٹ کے مصنف کے مطابق صحت مند اثرات کی حامل جڑی بوٹیاں بدہضمی اور یادداشت کی کمی کے مرض کو روکتی ہیں اور پٹھوں اور جوڑوں کے درد میں جب انہیں مقام ماؤف پر لگایا جائے تو یہ درد میں بھی آرام دیتی ہیں۔ روز میری میں کانوسک ایسڈ اور کارنوسول پایا جاتا ہے جو کینسر کے پھیلاؤ کو روکتا ہے۔
اجوائن خراسانی: اجوائن خراسانی میں بہت سے اینٹی آکسیڈینٹس کے علاوہ وٹامن اے اور سی پائے جاتے ہیں جو کئی کینسر پیدا کرنے والے خلیوں کی پیداوار کو روکتے ہیں، اس کے کئی اثرات دل کی صحت کو بہتر رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کا علاج ہیں۔
ادرک: معدے اور آنتوں کی بیماریوں میں ادراک کا کردار بڑی اہمیت کا حاصل ہے۔خصوصاً مورننگ سکینس کی وجہ سے ہونے والے اسہال اورمتلی، دوران حمل ہونے والی قے اور متلی، کینسر میں ادرک کا استعمال انتہائی مفید ہوتا ہے۔خوراک میں ادرک کا استعمال جوڑوں میں ہونے وال درد اور سوزش کا طاقتور ترین علاج ہے۔
دارچینی: دار چینی میں درد اور سوزش کش اثرات پائے جاتے ہیں اور یہ صحت مند اثرات کی حامل جڑی بوٹی معدے اور آنتوں کے بگاڑ میں بھی مفید ہے دارچینی میں نہ صرف Antioxitdentsپائے جاتے ہیں بلکہ یہ بلڈ شوگر لیول کو بھی قابو میں رکھتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں مضر صحت کولیسٹرول کی سطح کو بھی کم کرتی ہے۔
لہسن: لہسن جو کہ ایک مشہور و معروف صحت مند اثرات کی حامل جڑی بوٹی ہے جس سے کینسر کی روک تھام ہوتی ہے لہسن میں اور بھی بہت سے امراض کے خلاف لڑنے کی خصوصیت پائی جاتی ہے جن میں ہائی بلڈ پریشر اور عام سردی زکام شامل ہیں۔
بچھو بوٹی: یہ ایک عام سی بوٹی ہے لیکن اس میں جوڑوں کے امراض کاشافی علاج موجود ہے جو جوڑوں کی سوزش اور درد کو کم کرتی ہے اس کے علاوہ بچھو بوٹی کے استعمال سے سکری کا خاتمہ ہوتا ہے اور بال چمکدار ہوتے ہیں اس کے علاوہ Benign Prostatic Hyperplasia BHPکے مرض میں بھی مفید ہوتی ہے جو ایک ایسی بیماری ہے جس میں پروسٹریٹ گلینڈ بڑھ جاتے ہیں۔بچھو بوٹی کوچائے اور سوپ میں ڈال کر استعمال کیا جاتا ہے۔
پیازی: بھنے ہوئے آلوں پر اس کی سبز سطح وٹامن اے اور سی سے بھری ہوتی ہے جس میں زبردست اینٹی آکسیڈنٹ اثرات ہوتے ہیں اس سبز جڑی بوٹی سے معدے کے کینسر کے خطرات کم ہوتے ہیں۔سلاد میں اس کا استعمال بہت اچھا ہے، کھانے میں اس کی آمیزش سے کھانے کا ذائقہ بنتا ہے۔
ثابت دھنیا: اس کے استعمال سے صحت مند کولیسٹرال بڑھتا ہے اور مضر صحت کولیسٹرول کم ہوتا ہے اور بلڈ شوگر بھی کم رہتی ہے۔ثابت دھنیے میں جراثیم اور پھپھوندی کش اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔
تیج پات: تیج پات سردی سے لگنے والے بہت سے امراض کے علاج میں معاون ہے کیونکہ اس کے روغن میں Cineole پایا جاتا ہے جو بند ناک کھولنے اور SINUS کو سکون بخشنے میں نہایت مجرب ہے۔
ککروندا: ہاضمے میں مفید ہے، میری لینڈ یونیورسٹی آف میڈیسن کے مطابق ککروندا (Dandelion) ایک قدرتی پیشاب آور دوا ہے جس کا استعمال قوت ہاضمہ کی کمی امراض جگر اور ہائی بلڈ پریشر میں کیا جاتا ہے ککروندے کی جڑوں سے جگر، معدہ اور پتے کی اصلاح ہوتی ہے



