
تین بچوں کی ماں شبنم نے نابالغ لڑکے سے محبت کی خاطر شوہر اور بچے چھوڑ دیے
پنچایت نے بھی دے دی اجازت، مندر میں شادی، شبنم بنی شیوانی!
امروہہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے سعید نگلی تھانہ علاقے سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں شبنم نامی ایک شادی شدہ خاتون، جو تین بیٹیوں کی ماں ہے، نے ایک 17 سالہ شیوا سے عشق میں مبتلا ہو کر اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ دیا اور مندر میں اس سے شادی کر لی۔ شادی کے بعد اس نے اپنا نام بھی تبدیل کر کے "شیوانی” رکھ لیا۔
رپورٹ کے مطابق:شبنم کی عمر 26 سال ہے اور اس کی شادی آٹھ سال قبل سعید نگلی پنچایت کے ایک نوجوان سے ہوئی تھی۔ ان کے تین بچے ہیں۔ ایک سال قبل اس کے شوہر کا سڑک حادثہ ہوا جس کے بعد وہ جسمانی طور پر کمزور ہو گیا۔ اسی دوران شبنم کی اپنے پڑوسی لڑکے شیوا سے قربت بڑھنے لگی۔
پنچایت کا فیصلہ:جب معاملہ گھر والوں اور شوہر سے جھگڑے تک پہنچا تو مقامی سطح پر پنچایت بلائی گئی۔ شبنم نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ اب شیوا کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ پنچایت نے باہمی رضامندی سے فیصلہ سنایا کہ وہ اپنی مرضی سے جس کے ساتھ چاہے رہ سکتی ہے۔
مندر میں شادی، نام کی تبدیلی:
اس فیصلے کے بعد شبنم نے مندر میں شیوا سے شادی کر لی اور اپنا نام بدل کر "شیوانی” رکھ لیا۔ شادی کے بعد اس نے کہا،"میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، مجھے کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ میں شیوا کے ساتھ بہت خوش ہوں۔”
شیوا جو کہ ابھی 17 سال کا طالب علم ہے، نے بتایا کہ ان کی ملاقات صبح کی سیر کے دوران ہوئی تھی۔ چھ ماہ کے دوران دونوں کے درمیان تعلقات گہرے ہوگئے۔ شیوا نے کہا کہ وہ شبنم سے بےحد محبت کرتا ہے اور دونوں نے باہمی رضا مندی سے شادی کی ہے۔ شیوا نے بھی کہا کہ اب وہ دونوں بالغ ہیں اور اپنی زندگی ایک ساتھ جینا چاہتے ہیں، لہٰذا کوئی بھی ان کی زندگی میں مداخلت نہ کرے۔
شبنم کے شوہر توفیق نے بتایا کہ ان کی شادی 2016 میں ہوئی تھی اور ان کے تین بیٹیاں ہیں، جنہیں اب وہ خود سنبھال رہے ہیں۔ شبنم کی پہلی شادی میرٹھ میں ہوئی تھی، لیکن وہ رشتہ قائم نہ رہ سکا۔ توفیق کا کہنا ہے کہ وہ شبنم سے بہت محبت کرتا تھا، لیکن اس نے ان کے اعتماد کو توڑ دیا۔
توفیق نے بتایا کہ وہ ایک حادثے میں زخمی ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ایک ہاتھ نے کام کرنا بند کردیا ہے۔ ایک سال قبل انہیں دوبارہ حادثہ پیش آیا، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور ای-رکشہ چلا کر اپنے بچوں کی پرورش کرتے رہے۔ شبنم کا رویہ اس دوران تبدیل ہونے لگا اور وہ محلے کے ہی ایک نوجوان شیو کے ساتھ محبت میں مبتلا ہوگئیں۔
توفیق نے بتایا کہ جب انہیں اس تعلق کے بارے میں معلوم ہوا تو معاملہ پنچایت تک پہنچا۔ پنچایت نے فیصلہ دیا کہ خاتون جہاں چاہے رہ سکتی ہے۔ چند روز قبل شبنم نے باقاعدہ طلاق لی اور پھر شیو کے ساتھ مندر میں شادی رچائی۔
شیوا کے والد دتارام سنگھ نے کہا کہ ان کے بیٹے نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اسی کی مرضی ہے۔ ایک والد اپنے بچوں کے سامنے مجبور ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی خاموش رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بچے خوش ہیں تو والدین بھی خوش ہیں۔
توفیق نے آخر میں کہا کہ وہ اب اپنی بیٹیوں کو شبنم سے دور رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچوں پر منفی اثر پڑے۔ انہوں نے کہا کہ شبنم کا ان سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔
شبنم کی تیسری شادی
یہ شبنم کی تیسری شادی ہے۔ اس کی پہلی شادی علی گڑھ میں ہوئی تھی جو ناکام رہی۔ بعد ازاں اس نے سعید نگلی میں دوسری شادی کی اور تین بیٹیوں کی ماں بنی۔ تاہم، ایک سال قبل اس کے شوہر کو سڑک حادثے میں چوٹیں آئیں جس سے وہ معذور ہوگئے۔ اسی دوران شابنم کی شیوا سے قربت بڑھی اور دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔
اب شبنم اپنے سابقہ شوہر اور بچوں سے الگ ہو کر شیوا کے ساتھ نئی زندگی گزار رہی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں کافی زیر بحث ہے، جہاں کم عمری، مذہب کی تبدیلی اور ازدواجی تعلقات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔



