وہ لڑکیاں جو دوسروں کے جذبات کی پروا نہیں کرتیں، اپنی شادی کو ناکام بنا بیٹھتی ہیں
سیدہ تبسم منظور۔ممبئی
ماں کی ذمہ داری: بیٹی کے گھر کو بچانے کی کوشش
ماں کو چاہئے کہ اپنی بیٹی کا گھر بسا رہنے دے اور میاں بیوی کی محبتوں کو قائم رکھنے کی کوشش کرے اور یہ بات ذہن نشین رکھے کہ بیٹی اور داماد کے درمیان ناراضگی کے موقع پر ان کی ذرا سی غفلت و بے پروائی، غلط باتیں دماغ میں ڈالنا، بے وجہ بیٹی کی غیر ضروری طرفداری یا منفی کردار کی وجہ سے بیٹی کا گھر اْجڑ سکتا ہے۔
اگر خْدانخواستہ بیٹی اپنے شوہر سے رْوٹھ کر گھر آجائے تو ماں کو چاہئے کہ داماد اور اْس کے گھر والوں پر غصّہ کرنے اور اْن سے لڑنے پر آمادہ ہونے کے بجائے اپنی بیٹی کو سمجھائے اور اْسے فوراً سسرال پہنچانے کی کوشش کرے۔
حارث بن عمرو الکندی کی کہانی
ہم نے کہیں پر یہ کہانی پڑھی ہے۔ چونکہ ہمارے موضوع سے متعلق ہے اس لیے اسے اپنے مضمون کے ساتھ لکھ رہے ہیں:
"یمن میں حارث بن عمروالکندی نام کا ایک بادشاہ گزرا ہے۔ ایک دن اسے اطلاع ملی کہ عوف کندی نامی سردار کی لڑکی غیر معمولی طور پر حسین و جمیل ہے۔ بادشاہ نے اسی کی برادری کی عصام نامی ایک عورت کو حال معلوم کرنے بھیجا۔
لڑکی کی والدہ امامہ بنت حارثہ کی حکمت
وہ عورت لڑکی کی والدہ امامہ بنت حارثہ کے پاس پہنچی۔ امامہ نے اپنی بیٹی کے پاس لے جا کر کہا کہ یہ تیری خالہ ہے جو تجھے ملنے آئی ہے۔ اس سے کھل کر بات کر اور کوئی بات نہ چھپانا۔
وہ عورت لڑکی کے حسن، جمال اور سلیقے کی قائل ہو گئی۔ واپس آکر بادشاہ کو صورت حال بتائی۔ بادشاہ نے نکاح کا پیغام بھیجا اور شادی ہو گئی۔
ماں کی بیٹی کو رخصتی کے وقت نصیحت
بادشاہ نے اس کے باپ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ چناںچہ اس کے ساتھ بادشاہ کی شادی ہو گئی۔رخصتی کے وقت جب دلھن کو پالکی میں بٹھا کر خاوند کے گھر لے جانے کا وقت آیا، تو ماں نے اسے چند نصیحتیں کیں۔ اس نے کہا:
اے بیٹی، اگر نصیحت کسی کے عقل و خرد یا اعلیٰ نسب کی وجہ سے کی جاتی، تو میں اسے ضرور چھوڑ دیتی اور تجھ سے چھپاتی۔ مگر یہ عقل مند کے لیے یاددہانی کے طور پر اور بے سمجھ کے لیے بطور تنبیہہ کی جاتی ہے۔ اس لیے میں تجھے نصیحت کر رہی ہوں۔
اے میری بیٹی، اگر عورت اپنے والدین کی دولت مندی اور ان کی والہانہ محبت کی وجہ سے مستغنی ہوتی، تو سب سے زیادہ میں اپنے خاوند سے لاپروا اور مستغنی ہوتی، مگر ایسا نہیں۔ بلکہ جس طرح عورتوں کے لیے مرد پیدا کیے گئے ہیں بالکل اسی طرح عورتیں مردوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اے بیٹی، تو ایک مانوس ماحول اور وطن سے دور ایسے ماحول میں جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی۔ ایک ایسے ساتھی کے ہاں تجھے جانا ہے جس کے ساتھ تو مانوس نہیں جب کہ وہ تیرا مالک بن جائے گا۔ لہٰذا تو اس کی لونڈی بن جانا اس طرح وہ تیرا غلام بن جائے گا۔
اس سلسلے میں تو میری دس باتیں یاد رکھنا:
رخصتی کے وقت امامہ بنت حارثہ نے بیٹی کو نصیحت کی:
"اے بیٹی! اگر نصیحت کسی کے نسب یا عقل کی وجہ سے نہ کی جاتی تو میں تجھ سے کچھ نہ کہتی، مگر یہ یاد دہانی اور تنبیہہ ہے۔”
ماں کی 10 نصیحتیں
1. قناعت و سادگی سے زندگی گزارنا۔
2. خاوند کی بات غور سے سننا اور اطاعت کرنا۔
3. خاوند کی مرضی کے خلاف کوئی بات نہ کرنا۔
4. لباس اور صفائی کا خاص خیال رکھنا، بناو سنگھار کرنا۔
5. خاوند کے کھانے کے وقت کا خیال رکھنا۔
6. نیند اور آرام کے وقت کا احترام کرنا۔
7. خاوند کے مال کی حفاظت کرنا۔
8. سسرالی رشتہ داروں کا لحاظ رکھنا۔
9. خاوند کے رازوں کو ظاہر نہ کرنا۔
10. خاوند کی نافرمانی سے بچنا۔
شوہر کی خوشی و ناراضی کا لحاظ
اے بیٹی، جب وہ ناخوش ہو، تو خوشی ظاہر نہ کرنا، اور جب وہ خوش ہو، تو غم ظاہر نہ کرنا۔ اس سے کدورت بڑھتی ہے۔
یاد رکھ، جب تک تو اپنی مرضی کو خاوند کی رضا پر قربان نہیں کرے گی، خوشی ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے بہتری دے۔
بیٹی کی کامیابی
جب لڑکی اپنے خاوند کے ہاں پہنچی، تو اس نے اپنی والدہ کی نصیحتوں پر عمل کیا، خاوند کا اعتماد حاصل کیا اور بڑی عزت پائی۔
🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ



