گوشہ خواتین و اطفال

مائیں اپنی بیٹی کی شادی شدہ زندگی میں دخل اندازی نہ کریں✍️سیدہ تبسم منظور۔ممبئی 

مائیں بیٹی کی شادی شدہ زندگی میں مداخلت سے گریز کریں

بیوی بننا آسان نہیں

بیوی بننا کوئی آسان کام نہیں جسے ہر نادان لڑکی نبھا سکے۔ اس کے لیے سمجھداری، صبر، سلیقہ، برداشت اور خاص قسم کی دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لڑکی شوہر کے دل پر حکومت کرنا چاہے، اسے اس کی خوشی میں خوش رہنا سیکھنا چاہیے۔


ماں کو بیٹی کا گھر بسانے دینا چاہیے

ماں کو چاہیے کہ بیٹی کے گھر میں محبتیں قائم رہنے دے۔ اگر میاں بیوی میں ناراضگی ہو تو بیٹی کی غیر ضروری طرفداری، غصہ یا غلط باتوں سے حالات مزید بگڑ جاتے ہیں۔ ماں کی معمولی مداخلت بھی بیٹی کے گھر کو اجاڑ سکتی ہے۔


بیٹی روٹھ کر گھر آجائے تو ماں کا کردار

اگر بیٹی شوہر سے روٹھ کر میکے آجائے تو ماں کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ داماد یا سسرال پر الزام تراشی کے بجائے بیٹی کو سمجھانا بہتر ہے۔ ماں کو کبھی بھی بیٹی کے دل میں نفرت کا بیج نہیں بونا چاہیے۔ ایسے جملے:

"اب دیکھتے ہیں وہ تجھے لینے آتا ہے یا نہیں!”
بیٹی کو ضدی اور ہٹ دھرم بنا دیتے ہیں۔


ماں بیٹی کے درمیان روزانہ کی گفتگو کا اثر

اکثر مائیں بیٹی سے دن میں کئی بار بات کر کے سسرال کی باتیں پوچھتی ہیں۔ یہ عادت بیٹی کو خودمختار بننے نہیں دیتی۔ شادی کے بعد لڑکی کو سب سے پہلے شوہر اور سسرال کا دل جیتنا ہوتا ہے، نہ کہ ہر بات ماں کو بتانا۔


چاندن جیسی خوشبو اور اخلاق کا اثر

جس طرح چندن گھسنے پر خوشبو دیتا ہے، اسی طرح لڑکی اپنے کردار، اخلاق، اور خدمت سے دلوں میں جگہ بناتی ہے۔ ازدواجی زندگی میں انا اور ضد خطرناک ہوتی ہے۔ ضدی عورت ہمیشہ نقصان اٹھاتی ہے۔


ضد اور انا کا انجام

جو عورت شوہر پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہے، وہ دراصل محبت کھو دیتی ہے۔ زبان یا ضد سے جیتنے والی عورت شوہر کے دل سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتی ہے۔ اس ضد کا انجام اکثر طلاق اور تلخ زندگی کی صورت میں نکلتا ہے۔


تاریخی واقعہ: ماں کی نصیحتیں جو رہنمائی بن گئیں

یمن کے بادشاہ حارث بن عمروالکندی کی کہانی مشہور ہے۔ اس کی دلہن کی ماں امامہ بنت حارثہ نے بیٹی کو رخصتی کے وقت دس نصیحتیں کیں، جو آج بھی ہر عورت کے لیے سبق ہیں:

  1. قناعت اور سادگی سے زندگی گزارنا۔

  2. شوہر کی بات غور سے سننا اور اطاعت کرنا۔

  3. شوہر کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کرنا۔

  4. ہمیشہ صاف ستھرا اور خوشبودار رہنا۔

  5. شوہر کے کھانے کے وقت کا خیال رکھنا۔

  6. اس کے آرام اور نیند کا احترام کرنا۔

  7. شوہر کے مال کی حفاظت کرنا۔

  8. اس کے رشتہ داروں کا احترام کرنا۔

  9. اس کے رازوں کی حفاظت کرنا۔

  10. اس کی نافرمانی نہ کرنا۔

ماں نے کہا:

"اگر تو اس کی لونڈی بن جائے گی، تو وہ تیرا غلام بن جائے گا۔”

یہ نصیحتیں بیٹی نے دل سے اپنائیں، اور وہ اپنے شوہر کی محبوب اور معزز بیوی بن گئی۔

بیٹی کے ازدواجی معاملات میں ماں کی دخل اندازی بسا اوقات پورا گھر اجاڑ دیتی ہے۔ عقل مند ماں وہی ہے جو بیٹی کو صبر، تحمل، اور شوہر کی عزت کرنا سکھائے۔ گھر بسانا بیٹی کی ذمہ داری ہے، اور گھر بچانا ماں کی دانائی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button