قومی خبریں

ایم پی انجینئر رشید کو عدالت سے ملی راحت ،پیرول پر رہائی ملے گی

بارہمولہ سیٹ کے ایم پی انجینئر رشید کو عدالت سے بڑی راحت ملی

نئی دہلی،10فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)طویل عرصے سے جیل میں بند جموں و کشمیر کی بارہمولہ سیٹ کے ایم پی انجینئر رشید کو عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کو حراستی پیرول دے دیا ہے۔ عدالت نے رشید کو دو دن کی حراستی پیرول دیا ہے۔ تاہم عدالت نے رشید کو پیرول دینے کے ساتھ کئی شرائط بھی عائد کی ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو 11 اور 13 فروری کو حراستی پیرول دے دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ رشید پیرول کے دوران موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال نہیں کرسکیں گے۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ انجینئر رشید اپنی محدود ذمہ داری کے علاوہ کسی سے بات نہیں کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ رشید کسی بھی طرح میڈیا سے بات کرنے پر قدغن لگا دی گئی ہے۔واضح رہے کہ بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کیخلاف دہشت گردی کی فنڈنگ کا مقدمہ چل رہا ہے۔

انجینئر رشید پر جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروپوں کو فنڈنگ کرنے کا الزام ہے۔ رشید کو 2019 میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت منی لانڈرنگ کیس میں ملوث ہونے اور ملک کیخلاف مبینہ جنگ چھیڑنے کے الزام کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔انجینئر رشید نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ میں جموں و کشمیر کے سب سے بڑے حلقے کی نمائندگی کرتا ہوں، حلقے کی نمائندگی نہ روکیں، حلقے کی آواز کو نہ دبائی جائے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے انجینئر رشید بھی لوک سبھا الیکشن کی مہم چلانے اور ایم پی کا حلف لینے کیلئے جیل سے باہر آئے تھے۔ رشید 31 جنوری سے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت نہ ملنے کے خلاف بھوک ہڑتال پر تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button