سرورققومی خبریں

’ایم ایس پی تھا ، ایم ایس پی ہے اور ایم ایس پی رہے گا ‘: وزیر اعظم مودی

’ایم ایس پی تھا ، ایم ایس پی ہے اور ایم ایس پی رہے گا ‘:مودی
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)وزیر اعظم نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب کا جواب دیتے ہوئے کسان تحریک پر بھی تبادلہ خیال کیا اور تمام لوگوں سے تحریک چھوڑکر بات چیت کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میں آج ایوان سے سب کو دعوت دیتا ہوں۔

وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ سے کسانوں کو دلایا یقین

وزیر اعظم نے ایوان سے کسانوں کو یقین دلایا کہ کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس پی تھا ،ایم ایس پی ہے اور ایم ایس پی رہے ہوگا۔ ہمیں افواہ نہیں پھیلانا چاہئے۔وزیر اعظم نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے کسانوں کے معاملے پر حمایت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جو بھی کسانوں کے لئے بہتر ہے وہ کیا جاسکتا ہے۔

پی ایم مودی نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مظاہرین کی سمجھاتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن سے کہا کہ گالیاں میرے حصے میں جانے دیجیے لیکن اصلاحات ہونے دیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ بزرگ اس تحریک میں بیٹھے ہیں ، انہیں گھر جانا چاہئے۔ تحریک ختم کریں ، بحث آگے جاری رہے ۔

وزیر اعظم نے راجیہ سبھا میں کہا کہ جن 80 کروڑ افراد کو راشن دیا جاتا ہے وہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے کے لئے منڈیوں کو مضبوط کیا جارہا ہے ، اس کے علاوہ دیگر اقدامات پر بھی زور دیا جارہا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اگر اب دیر کریں گے تو کسانوں کو اندھیروں کی طرف ڈھکیل دیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب لال بہادر شاستری جی کو زرعی اصلاحات کے لئے اقدامات کرنا پڑا تو انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت بایاں محاذ شاستری جی کو امریکہ کا ایجنٹ کہتے تھے اور کانگریس کے خلاف بولتے تھے ۔ آج وہ مجھے بھی گالیاں دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی قانون کیوں نہ آیا ہو کچھ وقت کے بعد اصلاحات ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں سابق وزیر اعظم دیو گوڑا کی تعریف کی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بیان کو بھی پڑھ کر سنایا۔

وزیر اعظم مودی کے خطاب کے بعد کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا:ہم نے کب کہا ایم ایس پی ختم ہورہا ہے:مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں  

متعلقہ خبریں

Back to top button