بین الاقوامی خبریں

سنکیانگ میں قوانین اور پالیسیوں میں بہتری کیلئے بہت کچھ کیا جانا چاہیے:انسانی حقوق

تاہم بیجنگ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

جینوا،۲۸؍اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے چینی صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کے خلاف جاری جرائم پر تشویش ظاہر کی ہے۔سنکیانگ کے بارے میں اپنی دوسال بعد مرتبہ رپورٹ میں کہا مسائل کا سبب بننے والی پالیسیاں اب بھی چل رہی ہیں۔چین میں یغور مسلمانوں کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ صوبہ سنکیانگ میں یغور بھی ہیں اور دوسرے مسلمان بھی جو چین میں اقلیت سمجھے جانے کے باعث مبینہ طور پر قیدو بند کا شکار رہتے ہیں۔ تاہم بیجنگ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے او ایچ سی ایچ آر نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی طرف سے فروری 2023 سے جنیوا میں چینی حکام کے ساتھ مسلسل بات چیت کی جاتی رہی ہے اور انہیں قائل کیا کہ انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کو 26 مئی سے یکم جون کے دوران چین جانے کی اجازت دی جائے۔

او ایچ سی ایچ آر (OHCHR) کی ترجمان روینہ شامداسانی نیرپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، اس عرصے میں چینی حکام کے ساتھ انسانی حقوق کے ایشو کے ساتھ ساتھ، انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں اور فوجداری نظام انصاف کے موضوعات پر بات چیت کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبہ سنکیانگ میں چینی پالیسیاوں اور قوانین دونوں میں بہت سے مسائل موجود ہیں۔

اس لیے چینی حکام کی توجہ اس جانب دلائی جاتی رہے کہ وہ قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے علاوہ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایات کا بھی جائزہ لیں تاکہ بہتری ہو سکے۔روینہ شامداسانی نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ چین انسانی حقوق کے تحفظ میں ٹھوس پیشرفت کے ساتھ ساتھ تشدد اور مبینہ قانون کے برعکس اقدامات اور کارروائیوں کا بھی جائزہ لے۔انہوں نے اس 31 اگست 2022 کو رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سنکیانگ میں انسانیت کیخلاف واقعات کا ذکر کیا ہے۔ یہ رپورٹ انسانی حقوق کے شعبے کی سابق سربراہ مشیل بیچلیٹ نے اپنی ریٹائر منٹ سے محض چند منٹ پہلے پیش کی تھی۔تاہم چین نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔ رپورٹ میں تشدد، جبری طبی سلوک جنسی امتیاز کی بنیاد پرتشدد اور جبری مشقت کے مضبوط شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں۔

چین کا موقف ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے؛ بلکہ سنکیانگ میں پیشہ ورانہ تربیتی اداروں سے نکلنے والے انتہا پسندی سے نمٹنے اور ترقی کو ممکن بنانے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ترجمان نے تبت اور ہانگ کے حوالے سے بھی اپنی گفتگو جاری رکھی۔ تبت کے انسانی حقوق پر اثر انداز ہونے والی پالیسیوں پر بھی تبادلہ کیال کیا۔ خیال رہے تبت بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں و کشمیر سے جڑا ہوا بلند پہاڑی علاقہ ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کی قابض فوج بھی کئی دہائیوں سے کشمیریوں کے ساتھ ظلم و جبر کے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے کہ وہ اپنی آزادی کے مطالبے سے باز آجائیں۔ترجمان نے بتایا کہ ادارے نے اپنی ٹیم بیجنگ بھیجی تھی، نیز سنکیانگ اور ہانگ کانگ کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ تاہم ٹیم دارالحکومت سے باہر کا سفر نہیں کر سکی۔ شامداسانی نے اس موقع پر چینی حکام کے مثبت رویے کی تعریف کی مگر کہا ابھی حالات کی تبدیلی کے لیے بہت کچھ عملی طور پر کیے جانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button