مختارانصاری کو پانچ سال چھ ماہ قید مع 10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا
باندہ جیل میں بند مختار کے دستخط کے بعد فیصلہ سامنے آئے گا۔
لکھنؤ ، 15دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) عدالت نے باہوبلی مختار انصاری کو کوئلہ تاجر نند کشور رنگٹا کے بھائی مہاویر پرساد رنگٹا کو دھمکیاں دینے کے معاملے میں مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت نے مختار کو پانچ سال چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دو ماہ کی اضافی سزا بھگتنا ہو گی۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل سول جج سینئر ڈویژن، ایم پی ایم ایل اے کورٹ کے انچارج اجول اپادھیائے کی عدالت نے سنایا۔سماعت کے دوران جوائنٹ ڈائرکٹر پراسیکیوشن ہرکیشور سنگھ اور مدعی کے وکیل ودھان چند یادو اور او پی سنگھ نے استغاثہ کی طرف سے پیش کیا۔ باندہ جیل میں بند مختار کے دستخط کے بعد فیصلہ سامنے آئے گا۔
بتادیں کہ رنگٹا کو دھمکیاں دینے کے کیس میں جمعرات کو عدالت میں ملزم مختار انصاری کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ باندہ جیل میں بند مختار انصاری ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ مختار انصاری نے اسپیشل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (ایم پی-ایم ایل اے) اجول اپادھیائے کی عدالت میں زیر التوا اس معاملے میں عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت اور ملزم کا تحریری بیان داخل کرنے کے لیے 17 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔ رویندرپوری کالونی کے رہنے والے کوئلے کے تاجر نند کشور رنگٹا کو 22 جنوری 1997 کو اغوا کیا گیا تھا۔ اس کیس کی بحث کے درمیان 5 نومبر 1997 کی شام کو نند کشور رنگٹا کے بھائی مہاویر پرساد رنگٹا کو فون کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اغوا کا مقدمہ نہ چلائیں، ورنہ اسے بم سے اڑا دیا جائے گا۔ اس معاملے میں یکم دسمبر 1997 کو مختار انصاری کیخلاف بھیلوپور تھانے میں دھمکی کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔



