بین ریاستی خبریں

والدین کو پریشان کرنے والے بیٹے اور اس کی بیوی پر ممبئی ہائی کورٹ برہم، فلیٹ خالی کرنے کا حکم

ممبئی، 17 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی ہائی کورٹ نے ایک شخص اور اس کی #بیوی کو اپنے بزرگ والدین کا گھر ایک مہینے کے اندر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ شخص #والدین کو پریشان کرتا تھا اور ان کا گھر خالی کرنے سے انکار کر رہا تھا۔ جسٹس جی ایس کلکرنی کی سنگل بنچ نے اسی ہفتہ یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے آشیش دلال نامی شخص اور ان کے کنبہ کو اپنے بزرگ والدین کا فلیٹ خالی کرنے کا حکم سنایا ہے۔عدالت نے پایا کہ 90 سالہ والد اور 89 سالہ والدہ کا اکلوتہ #بیٹا اور اس کی #والدہ انہیں پریشان کر رہے ہیں، یہ فلیٹ بزرگ #جوڑے کی ملکیت ہے۔

دلال کو فلیٹ خالی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ والدین کو اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے اپنی ہی بیٹوں کی جانب سے استحصال سے خود کو بچانے کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔عدالت نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں بزرگ والدین اپنے اکلوتے بیٹے ہاتھوں #پریشان ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کہاوت میں کچھ سچائی ہے کہ بیٹیا سدا کے لئے ہیں اور بیٹے تبھی تک کے لئے جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی۔

بنچ نے کہا کہ سینئر شہری قانون میں یہ التزام کیا گیا ہے کہ سینئر شہریوں کی اولادیں یا رشتہ دار یہ یقینی کریں کہ بزرگ استحصال اور پریشانی سے آزاد ہو کر حسب معمول زندگی گزاریں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ موجودہ معاملہ انتہائی افسوسناک ہے، جہاں شخص دانستہ طور پر والدین کو بزرگی میں آرام دہ زندگی گزارنے سے روک رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button