
منی لانڈرنگ کیس میں انیل دیشمکھ کے معاونین کو 20 جولائی تک عدالتی تحویل میں بھیجا گیا
ممبئی،06؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)منگل کو پی ایم ایل اے کی ایک خصوصی عدالت نے مہاراشٹرا کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے دو معاونین کو 20 جون تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ دیشمکھ کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملے میں یہ کارروائی 100 کروڑ روپے #رشوت لینے کے الزامات سے متعلق ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (The Enforcement Directorate) نے 26 جون کو دیش مکھ کے ذاتی سکریٹری سنجیو پلانڈے اور ذاتی معاون کندن شندے کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف منی #لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ(پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔منگل کو پلانڈے اور شنڈے کی ای ڈی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد انہیں خصوصی جج ایس ایم بھونسلے کے سامنے پیش کیا گیا۔
عدالت نے تفتیشی ایجنسی کی درخواست پر انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ اس سے قبل ای ڈی نے عدالت کو بتایا تھا کہ دونوں ملزموں کا اس جرم میں بہت اہم کردار ہے۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے کچھ دن قبل #وزیر اعلی ادھو #ٹھاکرے کو لکھے گئے خط میں یہ الزام لگایا تھا کہ انیل دیشمکھ (Anil Deshmukh)نے #ممبئی کے وزیر داخلہ رہتے ہوئے برخاست پولیس افسر سچن واجے کو ممبئی کے بار اور ریستورانوں سے ہر ماہ 100 کروڑ روپئے کی وصولی کرنے کا حکم دیا تھا
سنگھ کے الزامات کے تناظر میں بمبئی ہائی کورٹ کے حکم پر سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (The Central Bureau of Investigation) نے ابتدائی تفتیش کی ، جس کے بعد ای ڈی نے دیشمکھ اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔



