شردھاوالکر -2کا المناک وقوع-لیوان ری لیشن شپ میں رہنے والی خاتون کا سفاکانہ قتل
نعش کو ٹکڑے کرکے ہانڈی میں اُبال کر کتوں کو کھلانے کا الزام
ممبئی ،8جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) دہلی کے شردھا واکر قتل کیس کی طرح ممبئی کے میرا روڈ کے واقعے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہاں ایک 36 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر اس کے ساتھی نے قتل کر دیا اور نعش کومتعدد ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ پولیس کے مطابق فلیٹ سے جسم کے 13 اعضاء ملے ہیں جن میں پاؤں بھی شامل ہیں۔ ملزمان نے جسم کے دیگر حصوں کو کئی ٹکڑے کر کے ضائع بھی کردیا۔ ملزم منوج سانے (56) کو بدھ کی شام اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے کرائے کے اپارٹمنٹ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ گزشتہ تین سالوں سے گیتا نگر فیز 7 میں گیتا آکاش دیپ بلڈنگ کے جے ونگ کے فلیٹ نمبر 704 میں مقتولہ سرسوتی ویدیا کے ساتھ مقیم تھا۔ممبئی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) جینت بجبالے کے مطابق اپارٹمنٹ کے رہائشیوں نے بدھ کی شام تقریباً 7 بجے نیا نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت کی تھی کہ فلیٹ نمبر 704 سے بدبو آرہی ہے۔
پولیس میرا روڈ اپارٹمنٹ پہنچی ،تو منوج سانے نے دروازہ کھولا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن موقع پر موجود لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کمرے کے اندر کے منظر کی تفصیل دل دہلا دینے والی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ کمرے کے اندر فرش پر درخت کاٹنے کی آری پڑی تھی۔ بستر پر ایک سیاہ پلاسٹک کی چادر بچھی ہوئی تھی۔ فرش پر خون کے چھینٹے پڑے تھے اور عورت کے بال پڑے تھے۔ کچن میں نعش کے ٹکڑوں سے 3 بالٹیاں بھری ہوئی تھیں۔ اتنی بدبو تھی کہ کھڑے رہنا ممکن نہ تھا۔ کمرے میں ایئر فریشنر کی بہت سی بوتلیں رکھی تھیں۔پولیس کے مطابق منوج سانے کے اندر پچھتاوے کا کوئی اثر نہیں نظر آیا۔ ایک پولیس افسر نے بدھ کی شام کو کہاکہ ہم اس کے خلاف قتل اور شواہد کو تباہ کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کے عمل میں ہیں۔
اپارٹمنٹ سے نمونے اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے فارنسک ٹیم کو بلایا گیا ہے۔اپارٹمنٹ کے دیگر رہائشیوں نے پولیس کو بتایا کہ منوج اور سرسوتی کسی کے ساتھ نہیں ملے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ منوج سانے کو پچھلے دو تین دنوں میں اس علاقے میں آوارہ کتوں کو کھانا کھلاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جو اس نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا، پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم نے نعش کے اعضاء کتوں کو کھلانے کی کوشش تو نہیں کی تھی؟ پولیس کے مطابق ملزمان نے مقتولہ کے جسم کے ٹکڑوں کو پریشر کوکر میں ابالا تھا، تاکہ اسے چھپانے میں آسانی ہو۔پولیس اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا ملزمان نے جسم کے اعضاء نالے میں پھینکے تھے۔
جوڑے کے فلیٹ کے دروازے پر کوئی نام کی پلیٹ نہیں تھی اور یہ سونم بلڈرز کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ قتل 4 جون کو ہوا ہو گا۔ اس واقعہ اور شردھا واکر قتل کیس میں بہت سی مماثلتیں ہیں جس نے گزشتہ سال لوگوں کو چونکا دیا تھا۔ کال سینٹر کی 27 سالہ ملازمہ شردھا کو اس کے ساتھی آفتاب پونے والا نے گلا دبا کر قتل کیا اور اس کے جسم کے 35 ٹکڑے کر کے فریج میں محفوظ کر دیے۔ وہ ان ٹکڑوں کو 18 دن تک جنگل میں پھینکتا رہا۔ اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے شردھا کا چہرہ جلا دیا۔ اس قتل کا انکشاف اس واقعے کے 6 ماہ بعد ہوا تھا، جب شردھا والکر کے والد نے مہینوں تک رابطہ نہ کرنے کے بعد گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ آفتاب پونے والا کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔



